انوارالعلوم (جلد 25) — Page 118
انوار العلوم جلد 25 118 احباب جماعت کے نام پیغامات جماعت کو بھی تباہ کرنے کا موجب بن سکتے ہیں۔پس ان حالات میں سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ میں یہ اعلان کروں کہ میں ہر سچے احمدی سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ ان لوگوں کو میرا پیرو نہ سمجھے بلکہ انہیں آزاد اور میرے منصب کا باغی تصور کرے۔اگر یہ لوگ حق پر ہیں تو انہیں اس اعلان پر خوش ہونا چاہیے۔اور جو غلطی میں نے کی ہے اور جس چیز کو میں نے تباہ کیا ہے انہیں اس کی اصلاح اور اس کی تعمیر کے لئے کمر بستہ ہو جانا چاہیئے۔اور اپنے ایمان اور اپنے عمل کی فوقیت ظاہر کرنی چاہیئے۔جب میں نے اپنے ہاتھ میں کام سنبھالا تھا تو اُس وقت ہمارے خزانے میں صرف چند آنے ہی تھے۔یا بہر حال اُس وقت ہماری گل پونجھی بمشکل ایک روپے سے زائد ہو گی۔ہماری اُس وقت کی حالت کے مقابلہ میں اس وقت کا بنگال یقیناً کہیں زیادہ امیر ہے۔اگر دولت احمد صاحب، ڈپٹی خلیل الرحمن صاحب اور ان کے ساتھی حق پر ہیں تو انہیں اتنی کامیابی تو ضرور حاصل کر لینی چاہیے جتنی کہ ہم نے متحدہ طور پر حاصل کی ہے۔بالخصوص اس حال میں کہ ان کے موجودہ وسائل ہمارے اُس وقت کے وسائل سے بہت زیادہ ہیں ان کے لئے اتنی کامیابی حاصل کر لینا مشکل نہیں ہونا چاہیئے۔بلکہ ایسی صورت میں تو انہیں اس قابل ہونا چاہیئے کہ وہ احمدیت کو ساری دنیا میں پھیلا کر دکھا دیں۔قادیان میں ہمارے اُس وقت کے وسائل پر نگاہ ڈالو کہ جب جماعت احمدیہ میں اختلاف رونما ہوا تھا۔اگر آج سے پچاس سال پہلے کا کمزور مرکز دنیا کو ہلا سکتا تھا تو پھر مشرقی بنگال کے احمدی آج دولت احمد صاحب اور ڈپٹی خلیل الرحمن صاحب کی قیادت میں عالمی پیمانے پر اس قسم کا تہلکہ کیوں نہیں مچاسکتے ؟ میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ مقابلۂ تبلیغ کے میدان میں ایسا کارنامہ کر کے دکھائیں؟ لیکن میں ساتھ ہی یہ اعلان بھی کرتا ہوں کہ وہ اس میدان میں کچھ بھی نہیں کر سکیں گے۔بر خلاف اس کے زیادہ دن نہیں گزریں گے کہ ان کے رشتہ دار اور ساتھی احمدیت کو ترک کر بیٹھیں گے۔آنے والے چند مہینے اور چند سال اس لعنت کو ظاہر کر دیں گے جو یہ لوگ خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے اوپر لا رہے ہیں۔