انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 115

انوار العلوم جلد 25 115 احباب جماعت کے نام پیغامات بعد یعنی 30 اور یکم کی درمیانی رات کو ہوائی جہاز سے روانہ ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے کل میں نے ظہر اور عصر کی نماز جمع کر کے جماعت کے ساتھ پڑھائی۔گو میں سجدے اور رکوع کے درمیان بھول جاتا تھا مگر میں نے اپنے ساتھ دوستوں کو بٹھا دیا تھا کہ مجھے یاد کرواتے جائیں۔بہر حال چار رکعتیں کھڑے ہو کر میں پڑھا سکا آج جمعہ ہے اور انشاء اللہ ارادہ ہے کہ میں جمعہ کی نماز پڑھاؤں۔یہ بات میں بد پر ہیزی سے نہیں کر رہا بلکہ ڈاکٹر نے مجھے حکم دیا ہے کہ جمعہ کی نماز پڑھاؤں۔اور یہ ڈاکٹر بھی غیر احمدی ڈاکٹر ہے احمدی نہیں۔گو اس نے تاکید کر دی ہے خطبہ اونچی آواز سے نہ ہو لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ سے ہو اور پانچ منٹ سے زیادہ نہ ہو۔آدمی پاس بیٹھے رہیں جو پانچ منٹ کے بعد روک دیں۔پچھلے چند دنوں سے خدا کے فضل سے طبیعت اچھی ہوتی چلی گئی۔گو دل کی کمزوری کے دورے بعض دنوں میں ہوتے رہے۔آج پہلی دفعہ ایک خواب چھوٹی سی آئی اور مجھے یا درہ گئی۔میں نے دیکھا کہ دو نوجوان مجھے ملنے آئے ہیں اور میں نے ان کو ملاقات کا وقت دیا ہے اور ان کے ساتھ کوئی ان کے پروفیسر بھی ہیں۔کچھ دیر کے بعد نیم خوابی کی حالت ہوئی۔اور میں نے محسوس کیا کہ ابھی وہ طالب علم اور ان کے پروفیسر ملنے نہیں آئے اور میں نے اپنی بیوی کو کہا اور وقت پوچھا۔انہوں نے کہا گیارہ بجے ہیں۔پھر میں نے ان سے پوچھا کہ دو طالب علم جنہوں نے وقت مقرر کیا تھاوہ نہیں آئے۔انہوں نے کہا نہیں آئے۔پھر میں نیند کے زور سے دوبارہ سو گیا۔بہر حال اُس وقت دماغ پر بوجھ کسی قدر کم معلوم ہو تا تھا اور میں محسوس کرتا تھا کہ خیالات کے معطل ہونے کی جو کیفیت پیدا ہو گئی تھی اُس میں کمی آگئی ہے۔یہ بہر حال اللہ تعالیٰ کا فضل ہے گو بہت آہستہ مگر پھر بھی طبیعت بحالی کی طرف مائل ہے۔اگر انجمن اور تحریک کے افسروں نے مجھے دق نہ کیا تو شاید صحت اور جلدی ٹھیک ہو جائے گی۔وہ ضروری ہدایت پر عمل کرنے اور ضروری رپورٹیں بھیجنے میں کو تاہی کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ آپ کی صحت کے پیش نظر ایسا کرتے ہیں۔حالانکہ رپورٹ وقت پر آئے تو اس سے طبیعت میں سکون پیدا ہو تا ہے۔بہر حال احباب دعا کرتے رہیں۔یورپین ڈاکٹروں کی رائے کا علم تو وہاں جا کر ہی ہو گا۔