انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 99

انوار العلوم جلد 25 99 احباب جماعت کے نام پیغامات جائے گا۔مگر جو لوگ چند سو یا ہزار لینا چاہیں گے اُن کو بغیر کسی نوٹس کے فوری طور پر روپیہ ادا ہو جائے گا۔میں امید رکھتا ہوں کہ سلسلہ کی تمام خواتین اور مرد میری اِس تحریک پر لبیک کہیں گے اور بغیر پیسہ خرچ کرنے کے دین و دنیا کے لئے ثواب عظیم کمائیں گے۔اور انشاء اللہ یہ امانت ان کی مالی ترقی کا بھی موجب بنے گی اور اس کے لئے سکیم آئندہ بنائی جائے گی۔چونکہ یہ ایک موقت امانت ہو گی جس کے لئے آٹھ دن کے نوٹس کی شرط ہو گی۔یہ قرضہ بن جائے گا اور زکوۃ سے آزاد ہو جائے گا اور اُن کے کام میں کوئی نقص نہیں ہو گا۔اگر جماعت کے مرد اور عورتیں اِس طرف توجہ کریں تو پندرہ ہیں لاکھ روپیہ چند روز میں جمع ہونا مشکل نہیں۔اور یورپ کا سفر اور سلسلہ کے کام بسہولت جاری رہ سکیں گے اور مالی اعتبار سے بھی مجھے بے فکری رہے گی۔میں اس وقت بالکل بیکار ہوں اور ایک منٹ نہیں سوچ سکتا اس لئے اپنے پرانے حق کی بناء پر جو پچاس سال سے زیادہ عرصہ کا ہے تمام بہنوں اور بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ دُعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے بے عملی کی زندگی سے بچائے کیونکہ اگر یہ زندگی خدانخواستہ لمبی ہونی ہے تو مجھے اپنی زندگی سے موت زیادہ بھلی معلوم ہو گی۔سو میں خدا سے دُعا کرتا ہوں کہ اے میرے خدا! جب میر اوجود اس دُنیا کے لئے بیکار ہے تو تو مجھے اپنے پاس جگہ دے جہاں میں کام کر سکوں۔سو اگر چاہتے ہو کہ میری نگرانی میں اسلام کی فتح کا دن دیکھو تو دعاؤں اور قربانیوں میں لگ جاؤ تا کہ خدا تمہاری مدد کرے اور جو کام ہم نے مل کر شروع کیا تھا وہ ہم اپنی آنکھوں سے کامیاب طور پر پورا ہوتا دیکھیں۔میں امید کرتا ہوں کہ اس امانت کی تحریک کے متعلق مجھے بار بار تحریک کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ احباب جماعت اور خواتین خود ہی یہ تحریک اپنے دوستوں میں کرتے رہیں گے اور اس کو زندہ رکھیں گے۔جب 1924ء میں میں نے لندن کا سفر کیا تھا تو اِس قدر مالی تنگی ہو گئی تھی کہ تبلیغ کے لئے جو وفد گیا تھا اُس کا خرچ بھی مجھے کو ہی دینا پڑا تھا مگر اب ڈاکٹروں کی ہدایت ہے کہ فکر بالکل نہ کریں۔اگر یہ تجویز کامیاب ہو جائے تو میری فکر بھی دُور ہو جائے اور