انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 93

انوار العلوم جلد 25 93 احباب جماعت کے نام پیغامات اور ہندوستانی جماعت اخراجات سفر برداشت نہیں کر سکتی تھی۔اُس وقت زیادہ ایسٹ افریقہ ، عراق اور چند اور غیر ممالک کے احمدیوں نے اکثر حصہ بوجھ کا اٹھایا تھا۔قادیان کی انجمن ہمارے کھانے کے بھی خرچ نہیں بھجوا سکتی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے افریقہ اور عرب کی جماعتوں کے اندر اس قدر اخلاص اور ایمان پیدا کر دیا کہ سارے قافلہ کے کھانے اور تبلیغ کا خرچ میں ادا کر تا تھا۔یا یوں کہو کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ سے ادا کر تا تھا۔واقعہ اس طرح ہوا کہ میں نے مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ایسٹ افریقہ کے چند دوستوں کو لکھا کہ مجھے سفر کی ضرورتوں اور جماعت کے وفد کے اخراجات کے لئے کچھ انگریزی سکہ قرض کے طور پر دے دیں۔وہ آدمی تو تھوڑے سے تھے۔مجھے یاد ہے کہ اس وقت تک ایسی حیثیت کے آدمی چند تھے۔جہاں تک مجھے یاد ہے میاں اکبر علی صاحب، سید معراج الدین صاحب اور بابو محمد عالم صاحب ممباسوی ایسی حالت میں تھے کہ کچھ قرض دے سکیں لیکن ایمان دنیا کے خزانوں سے بڑا ہوتا ہے، ایمان نے ان کی تمام مالی کمزوریوں کو دُور کر دیا۔مجھے یاد ہے کہ بابو اکبر علی صاحب نے اپنی تمام تجارت کا ایک حصہ نیلام کر دیا اور روپیہ مجھے قرض بھجوا دیا۔چونکہ یہ جماعتی حساب میں تھا جماعت نے ادا کر دیا مگر اُس وقت ایک عجیب لطیفہ ہوا جو خدا کی قدرت کا نمونہ تھا۔عراق میں ہمارے صرف ایک احمدی دوست تھے اور ان کی مالی حالت کچھ اچھی نہیں تھی۔میں نے ان کو بھی خط لکھا۔انہوں نے اپنے کسی اور دوست سے ذکر کر دیا۔ایک دن لندن کے ایک بینک نے مجھے اطلاع دی کہ تمہارے نام اتنے سو پونڈ آیا ہے۔میں نے سمجھا کہ قادیان نے مبلغین کے قافلہ کا خرچ بھجوایا ہے لیکن دریافت پر بینک نے بتایا کہ قادیان یا ہندوستان سے وہ روپیہ نہیں آیا بلکہ عراق سے آیا ہے۔میں نے بیت المال قادیان کو اطلاع دی کہ آپ لوگوں نے قرض کی تحریک کی تھی اور میں نے بھی اس کی تصدیق کی تھی۔اس سلسلہ میں روپیہ آنا شروع ہوا ہے آپ نوٹ کر لیں اور چونکہ بعد میں ادا کرنا ہے عراق کا پتہ ان کو بتادیا کہ یہاں سے اتنے سو پونڈ آیا۔جب میں ہندوستان واپس آیا تو میں نے اُس وقت کے