انوارالعلوم (جلد 25) — Page 78
انوار العلوم جلد 25 وارث قرار دیئے گئے تھے ان کو مل گئی۔78 سیر روحانی (8) یہود کی فلسطین میں دوبارہ واپسی کی پیشگوئی پھر آگے چل کر فرماتا ہے فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا - 21 پھر اس کے بعد ایک اور وقت آئیگا کہ یہودیوں کو دنیا سے اکٹھا لر کے فلسطین میں لا کر بسا دیا جائیگا۔وہ اب وقت آیا ہے جبکہ یہودی اس جگہ پر آئے ہوئے ہیں۔لوگ ڈرتے ہیں اور مسلمان بھی اعتراض کرتے ہیں، چنانچہ کراچی اور لاہور میں مختلف جگہوں پر مجھ پر مسلمانوں نے اعتراض کیا کہ یہ تو وعدہ تھا کہ یہ سر زمین مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے گی۔میں نے کہا کہاں وعدہ تھا؟ قرآن میں تو لکھا ہے کہ پھر یہودی بسائے جائیں گے۔کہنے لگے اچھا جی! یہ تو ہم نے کبھی نہیں سنا۔میں نے کہا تمہیں قرآن پڑھانے والا کوئی ہے ہی نہیں تم نے سُننا کہاں سے ہے۔میری تفسیر پڑھو اُس میں لکھا ہو ا موجود ہے۔تو یہ جو وعدہ تھا کہ پھر یہودی آجائیں گے قرآن میں لکھا ہوا موجود ہے۔سورۃ بنی اسرائیل میں یہ موجود ہے کہ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا۔جب آخری زمانہ کا وعدہ آئیگا تو پھر ہم تم کو اکٹھا کر کے اس جگہ پر لے آئیں گے۔بہائیوں کا لغو اعتراض بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہود کے آنے کی وجہ سے اسلام منسوخ ہو گیا۔گویا اُن کے نزدیک اسلام کے منسوخ ہونے کی یہ علامت ہے کیونکہ عِبَادِی الصّالِحُونَ نے اس پر قبضہ کرنا تھا۔جب مسلمان وہاں سے نکال دیئے گئے تو معلوم ہوا کہ مسلمان عِبَادِيَ الصُّلِحُونَ نہیں رہے۔یہ اعتراض زیادہ تر بہائی قوم کرتی ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ یہی پیشگوئی تورات میں موجود ہے، یہی پیشگوئی قرآن میں موجود ہے اور اسی پیشگوئی کے ہوتے ہوئے اس جاگیر کو بابلیوں نے سو سال رکھا تو اُس وقت یہودی مذہب بہائیوں کے نزدیک منسوخ نہیں ہوا۔ٹائیٹس کے زمانہ سے لیکر سو دو سو سال تک بلکہ تین سو سال تک فلسطین روم کے مشرکوں کے ماتحت رہا۔وہ عیسائیوں کے قبضہ میں نہیں تھا، یہودیوں