انوارالعلوم (جلد 25) — Page 77
انوار العلوم جلد 25 77 سیر روحانی (8) گالیاں دی جاتی ہیں۔ حضرت عمر کے روادارانہ سلوک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں فلسطین فتح ہوا اور جس وقت آپ کا ایک ایمان افروز نمونہ یروشلم گئے تو یروشلم کے پادریوں نے باہر نکل کر شہر کی کنجیاں آپ کے حوالے کیں اور کہا کہ آپ اب ہمارے بادشاہ ہیں آپ مسجد میں آکے دو نفل پڑھ لیں تا کہ آپ کو تسلی ہو جائے کہ آپ نے ہماری مقدس جگہ میں جو آپ کی بھی مقدس جگہ ہے نماز پڑھ لی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہاری مسجد میں داخل ہو کر اس لئے نماز نہیں پڑھتا کہ میں ان کا خلیفہ ہوں، گل کو یہ مسلمان اس مسجد کو چھین لیں گے اور کہیں گے یہ ہماری مقدس جگہ ہے اس لئے میں باہر ہی نماز پڑھوں گا تا کہ تمہاری مسجد نہ چھینی جائے۔ پس ایک تو وہ تھے جنہوں نے وہاں خنزیر کی قربانی کی اور یورپ کا منہ اُن کی تعریفیں کرتے ہوئے خشک ہوتا ہے اور ایک وہ تھا جس نے مسجد میں دو نفل پڑھنے سے بھی انکار کیا کہ کہیں مسلمان کسی وقت یہ مسجد نہ چھین لیں اور اس کو رات دن گالیاں دی جاتی ہیں۔ کتنی نا شکر گزار اور بے حیا قوم ہے۔ یہودیوں کی بجائے مسلمانوں اب مسلمانوں کے پاس فلسطین آجانے کے بعد سوال ہو سکتا ہے کہ وہ یہودیوں کے کو فلسطین کیوں دیا گیا ؟ پاس تو نہ رہا، موسوی سلسلہ کے پاس بھی نہ رہا، یہ کیا معمہ ہے ؟ لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ اعتراض اصل میں نہیں پڑتا اس لئے کہ بعض دفعہ جھگڑا ہوتا ہے وارث آجاتے ہیں تو سچے وارث کہتے ہیں ہم ان کے وارث ہیں۔ یہی صورت اس جگہ واقع ہوئی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا جا گیر دینے والا تھا۔ خدا تعالیٰ کے سامنے مقدمہ پیش ہوا کہ موسیٰ اور داؤد کے وارث یہ مسلمان ہیں یا موسی اور داؤد کے وارث یہودی اور عیسائی ہیں ؟ تو کورٹ نے ڈگری دی کہ اب موسیٰ اور داؤد کے وارث مسلمان ہیں چنانچہ ڈگری سے ان کو ورثہ مل گیا۔ جاگیر قائم ہے مگر جو اس کے