انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 47

انوار العلوم جلد 25 47 سیر روحانی (8) b پھر فرماتا ہے اَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُونَ وَمَا يُعْلِنُونَ 12 اے لوگو! سُن لو کہ مشرک اور اللہ تعالیٰ کے مخالف لوگ اپنے سینوں کو مروڑتے ہیں تاکہ اُس سے مخفی ہو جائیں۔یہاں محاورہ کے طور پر سینہ مروڑنا استعمال ہوا ہے۔کیونکہ جب کسی چیز کو چکر دیتے ہیں تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس کے پیچھے کچھ چھپ جائے۔لیکن جو دل کی بات ہو اس کے لئے ظاہری سینہ نہیں مروڑا جاتا۔پس اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے طریق اختیار کرتے ہیں جن کے نتیجہ میں اُن کے دلوں کے راز ظاہر نہ ہو جائیں۔اَلَا حِيْنَ يَسْتَخْشُونَ ثِيَابَهُم يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ۔سنو! جب یہ اپنے اوپر کپڑا اوڑھتے ہیں (عربی زبان میں اِسْتَغْشَى ثَوْبَهُ یا اِسْتَغْشَى بِشَوْبِه دونوں استعمال ہوتے ہیں۔اور اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ایسی طرز پر کپڑا لیا جس سے آواز دب جائے۔یہ لفظ عام کپڑا اوڑھنے کے لئے نہیں بولا جاتا بلکہ آواز کے دبانے کے لئے بولا جاتا ہے۔پس يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمُ کے معنے یہ ہیں کہ جس وقت وہ اپنے کپڑے اس طرح اوڑھتے ہیں کہ آواز دب کے باہر نہ نکلے ) تو وہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے۔مفسروں کی ایک غلط فہمی اس محاورہ کی وجہ سے مفسرین کو غلطی لگی ہے اور انہوں نے اس آیت کے ماتحت بعض ایسی روایتیں درج کر دی ہیں جنہیں پڑھ کر ہنسی آجاتی ہے۔بیشک منافق بڑا گندہ ہوتا ہے اور منافق بے وقوف بھی ہوتا ہے لیکن وہ حرکت جو مفسرین ان کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ تو بہت ہی چھوٹے بچوں والی ہے۔کہتے ہیں منافق لوگ اللہ تعالیٰ سے چھپانے کے لئے لحاف اوڑھ کر اس کے اندر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف باتیں کیا کرتے تھے۔حالانکہ اگر اس کے یہ معنے کئے جائیں تو یہ بچوں کا کھیل بن جاتا ہے۔در حقیقت یہ محاورہ ہے اور " کپڑے اوڑھتے ہیں " کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی تدبیریں کرتے ہیں کہ کسی طرح ان کے دل کی بے ایمانی لوگوں پر ظاہر نہ ہو جائے۔