انوارالعلوم (جلد 25) — Page 501
انوار العلوم جلد 25 501 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات قرآن کریم میں صاف لکھا ہے کہ جب قارون سے کہا گیا یہ دولت تمہیں خدا تعالیٰ نے دی ہے تو اس نے کہا کہ اِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ عِنْدِی 16 کہ میری یہ دولت مجھے میرے علم کی وجہ سے ملی ہے۔تو اسلام کمائی سے منع نہیں کرتا لیکن وہ کہتا ہے تم خواہ کتنی ؟ کرو یہ یقین رکھو کہ اس کا نتیجہ خدا تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہے۔مثلاً کوئی لوہار ہے تو وہ جتنی چاہے محنت کرے لیکن جو بھی کمائے اس کے متعلق یہ خیال نہ کرے کہ وہ اسے لوہارے کی وجہ سے ملا ہے بلکہ سمجھے کہ یہ سب کچھ اسے خدا نے دیا ہے۔آخر ایسا بھی تو ہوتا ہے کہ ایک شخص سارا سال لوہارے کا کام سیکھتا ہے لیکن وہ سیکھ نہیں سکتا۔پھر ایسا بھی تو ہوتا ہے کہ ایک کاریگر ہوتا ہے لیکن اسے کوئی کام نہیں ملتا۔پھر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ روپیہ مل جائے تو رستہ میں کوئی ڈاکو اس کا سارا روپیہ چھین لے۔پھر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ گھر کما کر روپیہ لے آئے لیکن گھر میں آتے ہی پیٹ میں درد اٹھے اور وہ جانبر ہی نہ ہو سکے۔پھر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اسے ایسی جلدی بیماری پیدا ہو جائے کہ وہ کپڑا نہ پہن سکے۔تو جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔اگر کوئی انسان اپنی محنت سے بھی روزی کمائے تب بھی اسے جو کچھ ملتا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ملتا ہے۔یہ چیز ایسی ہے کہ اگر انسان اس پر غور کرے تو اسے معلوم ہو سکتا ہے کہ اسے جو کچھ ملا ہے خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی وجہ سے ملا ہے۔اور خدا تعالیٰ سے تعلق قرآن کریم سے پیدا ہوتا ہے۔یہ ہمیں حضرت مرزا صاحب نے بتایا ہے۔اصل سبق تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا لیکن اسے مسلمان بھول گئے تھے۔حضرت مرزا صاحب نے آکر اسے دوبارہ تازہ کیا اور کہا کہ قرآن پر عمل کرو اور دعائیں کرو اور تقویٰ اختیار کرو۔اور سمجھو کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ تمہیں خدا تعالیٰ نے ہی دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک شعر ہے کہ ہر اک نیکی کی جڑ اتقا ہے کچھ رہا اگر یہ جڑ رہی سب 17 یعنی تمام نیکیاں تقویٰ سے پیدا ہوتی ہیں۔اگر تقویٰ باقی رہے تو ایسے انسان کو