انوارالعلوم (جلد 25) — Page 451
انوار العلوم جلد 25 451 قرون اولیٰ کی مسلمان خو پہاڑی اُونچی اور سیدھی تھی اور اس پر چڑھنا مشکل ہے۔پہاڑی پر جا کر اُس نے بچہ کو پیار کیا اور اُسے دودھ پلایا۔پھر جب نیچے اُترنے لگی تو ڈری اور شور مچانے لگی۔اس پر ارد گرد کے لوگ آئے انہوں نے رستے ڈال ڈال کر اور کیلے گاڑ گاڑ کر بڑی مشکل سے اُسے پہاڑی سے نیچے اُتارا۔لیکن جس وقت اس کا بچہ خطرہ میں تھا اُسے کوئی ہوش نہیں تھی اور وہ بڑی آسانی کے ساتھ اس پہاڑی پر چڑھ گئی۔تو اگر عورت کی محبت واقع میں جوش میں آجائے تو وہ بڑی قربانی کر لیتی ہے۔بچہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر ایک ایسا مادہ پیدا کیا ہے جو مرد کے اندر نہیں پایا جاتا جب وہ ماڈہ جوش میں آجائے تو عورت بڑی سے بڑی قربانی کر لیتی ہے۔اصل چیز تو وہ ماڈہ ہے۔اگر ماڈہ موجود ہو تو پھر قربانی کرنا مشکل نہیں ہو تا۔مثلاً ایک شخص کی جیب میں پانچ روپے ہوں تو وہ ان پانچ روپوں سے تمبا کو بھی خرید سکتا ہے، اور انہیں خدا تعالیٰ کے رستہ میں بھی دے سکتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عورت کو قربانی کا جو مادہ دیا ہے اس کو وہ بچہ کے لئے بھی استعمال کر سکتی ہے اور خدا تعالیٰ کی خاطر بھی استعمال کر سکتی ہے۔جس طرح وہ شخص جس کی جیب میں روپے موجود ہوں وہ اس سے ضروریات زندگی بھی خرید سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں بھی خرچ کر سکتا ہے۔اسی طرح عورت کے اندر قربانی کا مادہ موجود ہے وہ اُسے بچہ کے لئے بھی خرچ کر سکتی ہے اور خدا تعالیٰ کی خاطر بھی خرچ کر سکتی ہے۔جب وہ جوش میں آجائے تو دنیا کی کوئی طاقت نہیں جو اسے قربانی کرنے سے روک سکے۔وہ بچوں کی اعلیٰ پرورش کرتی ہیں، ان کی تربیت کرتی ہیں اور ضرورت پڑے تو مردوں کو غیرت دلاتی اور انہیں قربانی کے لئے تیار کرتی ہیں۔مجھے یاد ہے کہ 1917ء میں ایک دفعہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری قادیان آئے اور وہاں ایک بڑا جلسہ ہوا۔پانچ چھ ہزار غیر احمدی وہاں جمع ہوا۔اُس وقت قادیان میں احمدی بہت تھوڑے تھے اور شہر کی آبادی بہت کم تھی۔1947ء میں جب ہم قادیان سے نکلے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں سترہ اٹھارہ ہزار احمدی تھے لیکن اُس وقت ہزار بارہ سو کے قریب تھے اور ان کے مقابلے میں چھ سات ہزار غیر احمدی جمع ہو گئے تھے۔انہوں نے رستے روک لئے تھے اور چلنا پھرنا مشکل ہو گیا تھا۔اس لئے مولوی ثناء اللہ صاحب