انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 410

انوار العلوم جلد 25 410 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات خدا تعالیٰ نے وعدے کئے تھے وہ میرے ساتھ بھی ہیں اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ نے فرمایا تھا کہ قادیان میں طاعون نہیں آئے گی۔اس لئے میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے برابر ہوں تو خدا تعالیٰ کا یہی وعدہ میرے ساتھ بھی ہے۔میرے گاؤں میں بھی طاعون نہیں آئے گی۔چنانچہ جب طاعون کی وبا پھوٹی تو انہوں نے اپنے اس خیال کے مطابق اپنے مریدوں سے جو تعداد میں پانچ سات سے زیادہ نہیں تھے کہا کہ وہ اپنے گھر چھوڑ کر اُن کے پاس آجائیں۔چنانچہ وہ اُن کے پاس آگئے۔لیکن بعد میں انہیں خود طاعون ہو گئی۔اُن کے مریدوں نے کہا کہ چلو اب جنگل میں چلیں۔لیکن اُنہوں نے کہا جنگل میں جانے کی ضرورت نہیں طاعون مجھ پر اثر نہیں کریگی۔آخر جب مریدوں نے دیکھا کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں تو وہ انہیں ہسپتال میں لے گئے اور وہ اسی جگہ طاعون سے فوت ہو گئے۔بہر حال جب بیعت خلافت ہوئی تو پیغامیوں نے سمجھا میر عابد علی صاحب چونکہ صوفی منش آدمی ہیں اور عبادت گزار ہیں اس لئے الوصیت کے مطابق چالیس آدمیوں کا ان کی بیعت میں آجانا کوئی مشکل امر نہیں۔چنانچہ مولوی صدر دین صاحب اور بعض دوسرے لوگ رات کو ان کے پاس گئے اور کہا آپ اس بات کے لئے تیار ہو جائیں چنانچہ وہ اس بات پر آمادہ ہو گئے۔اُس وقت مولوی محمد علی صاحب نے دیانتداری سے کام لیا۔وہ جب اس مجلس سے واپس آگئے جس میں جماعت نے مجھے خلیفہ منتخب کیا تھا تو ان لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ نے بڑی بیوقوفی کی۔آپ اگر مجلس میں اعلان کر دیتے کہ میری بیعت کر لو تو چونکہ مرزا محمود احمد صاحب یہ کہہ چکے تھے کہ میں خلیفہ بننا نہیں چاہتا لوگوں نے آپ کی بیعت کر لینی تھی اور ان کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی آپ کی بیعت کر لیتے۔انہوں نے کہا میں یہ کام کیسے کر سکتا تھا۔میں تو پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ خلافت کی کوئی ضرورت نہیں۔بہر حال جب ان لوگوں نے دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب خلیفہ بننے کے لئے تیار نہیں تو انہوں نے جیسا کہ میں نے بتایا ہے میر عابد علی صاحب کو بیعت لینے کے لئے آمادہ کیا اور اس کے بعد وہ ہری کین لے کر ساری رات قادیان میں دو ہزار احمدیوں کے ڈیروں پر پھرتے رہے۔لیکن انہیں