انوارالعلوم (جلد 25) — Page 409
انوار العلوم جلد 25 409 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات مسجدوں کی ضرورت ہے تو ان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بن جاتی ہے۔اور اگر ان ڈیڑھ سو مقامات پر ایک ایک مسجد بھی بنائی جائے اور ہر ایک مسجد پر ایک ایک لاکھ روپیہ خرچ کیا جائے تو ان پر ڈیڑھ کروڑ روپیہ خرچ ہو جائے گا اور پھر بھی صرف مشہور ممالک میں ایک ایک مسجد بنے گی۔پھر ایک ایک لاکھ روپیہ سے ہمارا کیا بنتا ہے۔ہمارا صرف مبلغوں کا سالانہ خرچ سوالاکھ روپیہ کے قریب بنتا ہے۔اور اگر اس خرچ کو بھی شامل کیا جائے جو بیرونی جماعتیں کرتی ہیں تو یہ خرچ ڈیڑھ دو لاکھ روپیہ سالانہ بن جاتا ہے۔غرض میں نے اُس سے صرف ایک لاکھ روپیہ مانگا تھا مگر اُس نے مجھے اس سے بہت زیادہ دیا۔اب ہماری صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ بجٹ تیرہ لاکھ روپیہ کا ہے اور اگر تحریک جدید کے سالانہ بجٹ کو بھی ملا لیا جائے تو ہمار ا سالانہ بجٹ بائیس تیئیس لاکھ روپیہ سالانہ بن جاتا ہے۔پس اگر خدا تعالیٰ میری اس بیوقوفی کی دعا کو قبول کر لیتا تو ہمارا سارا کام ختم ہو جاتا مگر اللہ تعالیٰ نے کہا ہم تیری اس دعا کو قبول نہیں کرتے جس میں تو نے ایک لاکھ روپیہ مانگا ہے۔ہم تجھے اس سے بہت زیادہ دیں گے تاکہ سلسلہ کے کام چل سکیں۔اب اللہ تعالیٰ کے اس انعام کو دیکھ کر کہ میں نے ایک لاکھ مانگا تھا مگر اس نے بائیس لاکھ سالانہ دیا۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں ایک کروڑ مانگتا تو بائیس کروڑ سالانہ ملتا۔ایک ارب مانگتا تو بائیں ارب سالانہ ملتا۔ایک کھرب مانگتا تو بائیں کھرب سالانہ ملتا اور اگر ایک پدم مانگتا تو بائیں پدم سالانہ ملتا۔اور اس طرح ہماری جماعت کی آمد امریکہ اور انگلینڈ دونوں کی مجموعی آمد سے بھی بڑھ جاتی۔پس خلافت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بہت سی برکات وابستہ کی ہوئی ہیں۔تم ابھی بچے ہو تم اپنے باپ دادوں سے پوچھو کہ قادیان کی حیثیت جو شروع زمانہ خلافت میں تھی وہ کیا تھی اور پھر قادیان کو اللہ تعالے نے کس قدر ترقی بخشی تھی۔جب میں خلیفہ ہوا تو پیغامیوں نے اس خیال سے کہ جماعت کے لوگ خلافت کو کسی طرح چھوڑ نہیں سکتے یہ تجویز کی کہ کوئی اور خلیفہ بنالیا جائے۔اُن دنوں ضلع سیالکوٹ کے ایک دوست میر عابد علی صاحب تھے۔وہ صوفی منش آدمی تھے لیکن بعد میں پاگل ہو گئے تھے۔ایک دفعہ انہیں خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو