انوارالعلوم (جلد 25) — Page 402
انوار العلوم جلد 25 ہم نے ان سے پہلے یہود و نصاریٰ میں خلیفہ بنائے ضروری نہیں کہ پورا ہو۔ہاں اگر تم بعض باتوں پر عمل کرو گے تو ہمارا یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا۔پہلی شرط اس کی یہ بیان فرماتا ہے کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ تمہیں خلافت پر ایمان رکھنا ہو گا۔چونکہ آگے خلافت کا ذکر آتا ہے اس لئے یہاں ایمان کا تعلق اس سے سمجھا جائے گا۔وَعَمِلُوا الصلحتِ پھر تمہیں نیک اعمال بجالانے ہوں گے۔اب کسی چیز پر ایمان لانے کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اسے پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔مثلاً کسی شخص کو اس بات پر ایمان ہو کہ میں بادشاہ بننے والا ہوں یا اسے ایمان ہو کہ میں کسی بڑے عہدہ پر پہنچنے والا ہوں تو وہ اس کے لئے مناسب کوشش بھی کرتا ہے۔اگر ایک طالب علم یہ سمجھے کہ وہ ایم۔اے کا امتحان پاس کرے تو اس کے لئے موقع ہے کہ وہ سی۔پی۔ایس پاس کرے یا پراونشل سروس میں ای۔اے۔سی بن جائے یا اسسٹنٹ کمشنر بن جائے تو پھر وہ اسکے مطابق محنت بھی کرتا ہے۔لیکن اگر اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ان عہدوں کے حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا تو وہ ان کے لئے کوشش اور محنت بھی نہیں کرتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو اس بات پر یقین ہو کہ وہ خلافت کے ذریعہ ہی ترقی کر سکتے ہیں اور پھر وہ اس کی شان کے مطابق کام بھی کریں تو ہمار اوعدہ ہے کہ ہم انہیں خلیفہ بنائیں گے۔لیکن اگر انہیں یقین نہ ہو کہ ان کی ترقی خلافت کے ساتھ وابستہ ہے اور وہ اس کے مطابق عمل بھی نہ کرتے ہوں تو ہمارا ان سے کوئی وعدہ نہیں۔چنانچہ دیکھ لو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت ہوئی اور پھر کیسی شاندار ہوئی۔آپ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے۔اُس وقت انصار نے چاہا کہ ایک خلیفہ ہم میں سے ہو اور ایک خلیفہ مہاجرین میں سے ہو۔یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور بعض اور صحابہ فوراً اُس جگہ تشریف لے گئے جہاں انصار جمع تھے اور آپ نے انہیں بتایا کہ دیکھو! دو خلیفوں والی بات غلط ہے، تفرقہ سے اسلام ترقی نہیں کرے گا۔خلیفہ بہر حال ایک ہی ہو گا۔اگر تم تفرقہ کرو گے تو تمہارا شیرازہ بکھر جائے گا، تمہاری عزتیں ختم ہو جائیں گی اور عرب تمہیں تنکا بوٹی کر ڈالیں گے تم یہ بات نہ کرو۔بعض انصار نے آپ کے مقابل پر دلائل 402 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات