انوارالعلوم (جلد 25) — Page 396
انوار العلوم جلد 25 396 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات پانچ کروڑ ، دس کروڑ ، ہیں کروڑ ، پچاس کروڑ ، ارب، کھرب، پدم بلکہ اس سے بھی بڑھ جائے گا۔اور پھر تم دنیا کے چپہ چپہ میں اپنے مبلغ رکھ سکو گے۔انفرادی لحاظ سے تم اُس وقت بھی غریب ہو گے لیکن اپنے فرض کے ادا کرنے کی وجہ سے ایک قوم ہونے کے لحاظ سے تم امریکہ سے بھی زیادہ مالدار ہو گے۔دنیا میں ہر جگہ تمہارے مبلغ ہوں گے۔اور جتنے تمہارے مبلغ ہوں گے اتنے افسر دنیا کی کسی بڑی سے بڑی قوم کے بھی نہیں ہونگے۔امریکہ کی فوج کے بھی اتنے افسر نہیں ہوں گے جتنے تمہارے مبلغ ہوں گے اور یہ محض تمہارے ایمان اور اخلاص کی وجہ سے ہو گا۔اگر تم اپنے ایمان کو قائم رکھو گے تو تم اُس دن کو دیکھ لو گے۔تمہارے باپ دادوں نے وہ دن دیکھا جب 1914ء میں پیغامیوں نے ہماری مخالفت کی۔جب میں خلیفہ ہوا تو خزانہ میں صرف 17 روپے تھے۔انہوں نے خیال کیا کہ اب قادیان تباہ ہو جائے گا لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت دی کہ اب ہم اپنے کسی طالب علم کو سترہ روپے ماہوار وظیفہ بھی دیتے ہیں تو وہ وظیفہ کم ہونے کی شکایت کرتا ہے۔پیغامیوں کے خلاف پہلا اشتہار شائع کرنے کے لئے میرے پاس روپیہ نہیں تھا۔میر ناصر نواب صاحب جو ہمارے نانا تھے انہیں پتہ لگا۔وہ دارالضعفاء کے لئے چندہ جمع کیا کرتے تھے۔ان کے پاس اس چندہ کا کچھ روپیہ تھا۔وہ دو اڑھائی سو روپیہ میرے پاس لے آئے اور کہنے لگے اس سے اشتہار چھاپ لیں پھر خدا دے گا تو یہ رقم واپس کر دیں۔پھر خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور آمد آنی شروع ہوئی۔اور اب یہ حالت ہے کہ پچھلے ہیں سال کی تحریک جدید میں تین لاکھ ستر ہزار روپیہ چندہ میں نے دیا ہے۔کجا یہ کہ ایک اشتہار شائع کرنے کے لئے میرے پاس دو اڑھائی سو روپیہ بھی نہیں تھا اور کجا یہ کہ خدا تعالیٰ نے میری اِس قسم کی امداد کی اور زمیندارہ میں اس قدر برکت دی کہ میں نے لاکھوں روپیہ بطور چندہ جماعت کو دیا۔پھر مجھے یاد ہے کہ جب ہم نے پہلا پارہ شائع کرنا چاہا تو میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ ہمارے خاندان کے افراد اپنے روپیہ سے اسے شائع کر دیں لیکن روپیہ پاس نہیں تھا۔