انوارالعلوم (جلد 25) — Page 18
انوار العلوم جلد 25 18 سیر روحانی (8) جاتی ہے کہ نہیں۔لیکن جہاں تک انتظام اور قانون کا سوال ہے میرا کوئی دخل نہیں۔وہ انہی کو کرنا پڑے گا۔اور یہ جو بات ہے کہ میں کہوں چندہ روک دو یہ تو کسی اہم بات پر کروں گا۔یہ تو نہیں کہ فلاں کلرک کی ترقی نہیں کی چندہ روک دو۔لوگ مجھے کیا سمجھیں گے۔آخر وہ ایسا ہی کام ہو گا جس کو میں دنیا کے سامنے دھڑلے سے پیش کر سکوں کہ یہ اسلام کو تباہ کرنے لگے تھے اس لئے میں نے روک دیا۔ورنہ اگر لوگوں کو یہ نظر آئے گا کہ نہایت ہی ذلیل اور حقیر بات کے اوپر میں نے انہیں دھمکی دی ہے اور میں نے ان کو کہا ہے کہ میں اپنی جماعت کو کہتا ہوں کہ چندہ نہ دو تو سارے مجھے بے وقوف سمجھیں گے اور ان کے ساتھ ہمدردی کریں گے۔قانونی سوال تو جہاں تک قانونی سوال ہے اور جہاں تک دنیوی اختیارات کا سوال ہے انجمن نے کام کرنا ہے۔اگر انجمن صحیح ہاتھوں میں نہیں ہو گی تو آپ کا کام یقیناً خراب ہو گا۔لیکن اِس وقت انجمن کے عہدے دیکھو۔ناظر اعلیٰ، پنشنر۔ناظر امور عامہ، پنشنر۔ناظر تعلیم ، پنشنز۔ناظر دعوۃ و تبلیغ ، پینشنر۔ناظر بیت المال، پنشنر۔ناظر امور خارجہ ، پنشنز۔یہ تمہارے چھ عہدے ہیں اور چھ پر ہی پنشنرز ہیں۔ایک عہدے کو تو ابھی انہوں نے تنگ آکر چھوڑا ہے۔خانصاحب یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔کام کرنے کا ان کے اندر جوش تھا۔فالج ان کی ایک سائیڈ پر گرا ہوا ہے۔اب دوسرے ہاتھ پر بھی ہوا ہے دو آدمیوں کے سہارے اُن کو پکڑے پکڑے کرسی پر آکر بیٹھتے تھے اور اسی طرح جاتے تھے۔بھلا اس طرح کوئی کام ہو سکتا ہے؟ مجھ سے ملنے آتے تھے تو ان کی اس تکلیف کو دیکھ کر مجھ سے برداشت نہیں ہوتی تھی اور میں ہمیشہ انہیں کہتا کہ آپ نیچے آکر اطلاع دے دیا کریں بلکہ بہتر ہے اپنے نائب کو میرے پاس بھیج دیا کریں مگر وہ اپنے شوق میں آجاتے تھے۔لیکن مجھے ان سے بات کرنا ایک مصیبت معلوم ہو تا تھا۔دل میں خیال آتا تھا کہ کتنی تکلیف اٹھا کر یہ کام کرتے ہیں۔تم کہو گے کیوں رکھا ہوا ہے ایسے آدمی کو ؟ میں پوچھوں گا کہ کون سے آدمی تم نے مجھے دیئے ہیں کہ میں اُن کو رکھتا ؟ آخر یہ تو نہیں کہ