انوارالعلوم (جلد 25) — Page 367
انوار العلوم جلد 25 367 25۔منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ۔میرے نزدیک جب تک کوئی معتین ثبوت نہ ہو کسی مقابل کے متعلق ایسی بات لکھنا تقویٰ کے خلاف ہے۔ہمارے متعلق ہمیشہ غیر احمدی کہتے رہے ہیں کہ انگریزوں سے روپیہ لے کر انہوں نے مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور ہم ہمیشہ اسے بُرا مناتے رہے ہیں۔وہی طریقہ اپنے مخالف کے متعلق استعمال کرنانہایت معیوب اور بُرا ہے۔یا تو ایڈیٹر الفضل کے پاس ایسا ثبوت موجود ہو جس کی بناء پر وہ اپنے بیوی بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر لَعْنَةُ الله عَلَى الْكَاذِبِينَ کے حکم کے مطابق قسم کھا کر چٹان پر یہ الزام لگا سکے کہ اُس نے کسی سے روپے کھائے ہیں اور اس کی وجہ سے وہ ہمارا مخالف ہے یا پھر اسے چٹان کے دعویٰ کو قبول کرنا چاہیئے اور مومنوں کی طرح معذرت کرنی چاہیئے کہ ہم نے بعض افواہوں یا قیاسوں کی بناء پر الزام لگا یا ورنہ ہم اس الزام پر لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ نہیں کہہ سکتے۔قرآن کو اونچا کرنے کے لئے اپنا سر نیچا کر لینا بڑی عزت کی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ سچا احمدی وہ ہے جو سچا ہو کر جھوٹا بنے تھے۔اِس کے یہ معنے نہیں کہ وہ سچ بولے اور کہے کہ میں نے جھوٹ بولا تھا۔بلکہ یہ معنے ہیں کہ اگر وہ کوئی ایسی بات کہے جسے وہ سچا سمجھتا تھا مگر قرآن کریم اُسے ایسا کہنے کی اجازت نہ دیتا ہو تو فوراً معذرت کرے اور اپنے مخاصم کی بات کو تسلیم کرلے۔ایڈیٹر صاحب الفضل اس بات سے نہ ڈریں کہ بعض دوسرے لوگ اِس سے اُن کے سر چڑھ جائیں گے کیونکہ قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ اگر تو ہمارے حکم کے مطابق فروتنی دکھائے گا تو ہم خود تیری طرف سے ہو کر لڑیں گے۔اور یہ ظاہر ہے کہ ایڈیٹر صاحب الفضل کی لڑائی سے خدا تعالیٰ کی لڑائی زیادہ سخت ہے۔26 آخر میں میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ایڈیٹر صاحب چٹان نے جہاں ایڈیٹر صاحب الفضل کو نصیحت کی ہے وہاں میرے متعلق بھی لکھا ہے کہ جو باتیں آپ اپنے لئے پسند نہیں کرتے وہ دوسروں کے متعلق مت لکھیے یا لکھوائیے حالانکہ ایڈیٹر صاحب چٹان نے جس دلیری سے الفضل کے الزام کے مقابلہ میں لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ کہا ہے اس فقرہ کے متعلق وہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ نہیں کہہ سکتے اور نہ میں ان سے اس کا مطالبہ