انوارالعلوم (جلد 25) — Page 278
انوار العلوم جلد 25 278 سیر روحانی نمبر (9) کہ وہ کیا خرچ کریں؟ حالانکہ خود حکم دیتا ہے کہ خرچ کر و۔مگر فرماتا ہے تم وہ خرچ کرو جو ضرورت سے زیادہ ہو۔جس کی تمہیں گل کو ضرورت پیش آتی ہے اُسے خرچ نہ کرو۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے وصیت کرنی چاہی اور کہا کہ میں اپنا سارا مال غریبوں کو دیتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سارا مال غریبوں کو دے دینا اچھا نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تیرے بچے تیرے بعد لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔کچھ ان کے لئے بھی رکھو اور کچھ اپنے وارثوں کے لئے بھی رکھو تا کہ وہ بھی عزت سے گزارہ کریں۔52 علم شہریت کی نہر پھر علم شہریت کی طرف بھی قرآن کریم میں توجہ دلائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى التي بُرَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرُنَا فِيهَا السَّيْرَ - 33 یعنی ہم نے قوم سبا کی بستیوں اور بنی اسرائیل کی بستیوں کے درمیان بڑے بڑے شہر بسائے تھے جس کی وجہ سے لوگ تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر آبادیوں میں چلے جاتے تھے اور انہیں کھانا پینامل جاتا تھا۔گویا بتایا کہ مدنیت یعنی شہر بسانا ملک کی ترقی کا موجب ہوتا ہے کیونکہ اس سے ملک کے لوگوں کے باہمی تعلقات بڑے آسان ہو جاتے ہیں۔اگر کسی ملک میں صرف گاؤں ہوں تو ان کے تعلقات وسیع نہیں ہوتے اور انکی تعلیم اور تجارت وغیرہ بھی کمزور ہو جاتی ہے۔تاریخ کی نہر پھر عظیم تاریخ کی طرف بھی قرآن کریم توجہ دلا تا ہے۔فرماتا ہے ذلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَابِمْ وَحَصِيدٌ - 54 یعنی ہم نے اس قرآن میں تیرے پاس پچھلی قوموں کے جو حالات بیان کئے ہیں اُن میں سے بعض کے نشانات اب تک موجود ہیں اور بعض کے نشانات بالکل مٹ چکے ہیں۔علمائے تاریخ نے لکھا ہے کہ تاریخیں دو قسم کی ہیں۔ایک تاریخ ہسٹارک (HISTORIC کہلاتی ہے اور ایک پر کی ہسٹارک (PRE-HISTORIC) یعنی زمانہ تاریخ سے قبل کے حالات۔یہی بات قرآن کریم نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے