انوارالعلوم (جلد 25) — Page 261
انوار العلوم جلد 25 261 سیر روحانی نمبر (9) بِأَمْرِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لايت لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ _ 17 یعنی اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو تمہارے فائدے کے لئے لگایا ہوا ہے اور سورج اور چاند کو بھی اُس نے تمہاری خدمت پر مقرر کیا ہوا ہے۔اگر تم ان امور پر غور کرو تو تم اس سے بڑا علم حاصل کر سکتے ہو۔غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ دُنیوی علوم بھی پھیلائے ہیں۔یعنی بنی نوع انسان کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ فلاں فلاں علم ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔مثلاً پہلے تو اُس نے قانونِ قدرت کی طرف توجہ دلائی۔اس ایک علم کی طرف توجہ دلانے سے ہی اُس نے تمام جادؤوں اور ٹونے ٹوٹکوں کو باطل کر کے رکھ دیا۔کیونکہ اگر اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ والی آیت ٹھیک ہے تو جتنے جادو ٹونے اور ٹوٹکے ہیں یہ سب باطل ہو جاتے ہیں۔کیونکہ جادو اور ٹونے ٹو ٹکے کے معنے یہ ہیں کہ قانون کوئی نہیں چھو منتر کیا اور بات ہو گئی۔حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک قانون علم ہے تم اس کی تلاش کرو اور اس سے فائدہ اُٹھاؤ۔جغرافیہ کی نہر اسی طرح قرآن کریم نے جن علوم کی طرف توجہ دلائی ہے اُن میں سے ایک علم جغرافیہ بھی ہے۔اللہ تعالیٰ قوم لوط کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔اِنَّ فِي ذلِكَ لَآيَتٍ لِلْمُتَوَسِمِينَ وَ إِنَّهَا لَبِسَبِيلِ مُّقِيمِ ـ اِنَّ فِي ذلِكَ لَآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ 14 کہ ان بستیوں میں سمجھداروں اور عقلمندوں کیلئے بڑے نشانات ہیں۔پھر فرماتا ہے کہ یہ بستیاں جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں عرب میں سے گزرنے والے ایک ایسے راستہ پر ہیں جو ہمیشہ جاری رہتا ہے۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اگر انطاکیہ کی طرف عرب قافلے جائیں تو قوم لوط کی بستیاں اُن کے راستہ پر آتی ہیں اور پھر وہ راستہ ایسا ہے جو ہمیشہ آباد رہتا ہے۔بعض رستے ایسے ہوتے ہیں جو کچھ وقتوں میں متروک ہو جاتے ہیں لیکن وہ ایک ایسا راستہ ہے جو ہمیشہ آبادرہتا ہے۔گویا اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جغرافیہ کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ تمام شہروں اور وادیوں پر نشان لگاؤ اور پتہ لگاؤ کہ وہ کہاں کہاں واقع ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے وَعَادًا وَ ثَمُودَاً وَقَد تَبَيَّنَ لَكُم مِّنْ مَّسْكِنِهِمْ - 12 یعنی عاد 19