انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 262

انوار العلوم جلد 25 262 سیر روحانی نمبر (9) اور خمود میں بھی بڑے بھاری نشانات ہیں۔انہوں نے جو شہر بسائے تھے اُن کا تمہیں ہے۔لیکن ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے کہ وَ كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسْكِنْهُمْ لَمْ تُسْكَنُ مِنْ بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًا وَ كُنَّا نَحْنُ الْوِرِثِينَ 20 یعنی کتنی ہی بستیاں ہیں جو اپنی معیشت پر اتر رہی تھیں مگر ہم نے انکو ہلاک کر دیا۔سو یہ اُن کے ویران مکانات پڑے ہیں جو اُن کے بعد آباد ہی نہیں ہوئے اور اُن کے بعد ہم ہی اُن کے وارث ہوئے۔گویا دونوں قسم کے نشانات موجود ہیں۔کچھ بستیاں اور قلعے ایسے ہیں جو شہری آبادیوں کے درمیان ہیں تم اُن کو تلاش کرو۔لیکن کچھ ایسی بھی بستیاں نکلیں گی جو بالکل ویران جگہوں پر ہیں۔عاد اور ثمود کے متعلق قرآنی معلومات یہ عجیب بات ہے کہ عاد اور محمود کے متعلق قرآن کریم میں جو کا ایک عیسائی محقق کو اعتراف ذکر آتا ہے اس کے متعلق بعض متعصب عیسائی تک تسلیم کرتے ہیں کہ اس سے زیادہ ہمیں اُنکی کوئی حقیقت معلوم نہیں۔چنانچہ حجرجی زیدان جیسے سخت متعصب عیسائی نے جغرافیہ عرب پر ایک کتاب لکھی ہے اُس میں وہ لکھتا ہے کہ عاد اور ثمود کے متعلق یونانیوں نے بھی کتابیں لکھی ہیں اور رومیوں نے بھی ان کا بعض جگہ پر ذکر کیا ہے۔اسی طرح جغرافیہ کے دوسرے ماہرین کا کچھ لٹریچر بھی موجود ہے مگر سارے لٹریچر پڑھنے کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ عاد اور ثمود کے متعلق جو کچھ قرآن کریم میں لکھا ہے اُس سے ایک لفظ بھی زیادہ ہمیں معلوم نہیں۔باقی جو کچھ لکھا گیا ہے سب جھوٹ ہے۔عاد اور ثمود کی صحیح تاریخ صرف قرآن کریم سے ملتی ہے۔21 ان آیات میں صراحتاً جغرافیہ کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ عاد کی بستیاں بعض ایسی جگہوں پر پائی جاتی ہیں جو ویران ہو چکی ہیں اور بعض ایسی جگہوں پر پائی جاتی ہیں جہاں ابھی ویرانی نہیں آئی۔