انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 207

انوار العلوم جلد 25 207 متفرق امور زیادہ ہی بکتی ہے لیکن اگر چھ روپیہ پر بھی ہکے تو گویا گیارہ سو روپیہ فی ایکڑ آمد ہو جاتی لیہ ہے۔پھر اور فصلیں بھی ہوتی ہیں۔میں نے بھی وہ بیچ منگوایا مجھے تو یقین نہیں آتا تھا مگر میں نے اپنے مبلغ کو لکھا انہوں نے لکھا۔وہ بیج دینے کو تو تیار ہیں مگر اس بیچ میں نقص یہ ہے کہ پہلے زمین کا کیمیاوی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔کیمیاوی ٹیسٹ کے بعد جب وہ بویا جاتا ہے تو پھر اس سے اتنی پیداوار ہوتی ہے۔آپ اپنی زمین کی مٹی بھجوا دیں تو وہ ٹیسٹ کر دیں گے۔میں نے کہا اتنا بکھیڑ ا کون کرے تم بھیج دو ہم تجربہ کر لیں گے۔انہوں نے چند پاؤنڈ بیج بھجوا دیا جو اُن لوگوں نے مفت دیا۔وہ اِس وقت پاکستان کی بہت مدد کر رہے ہیں۔میں نے وہ بیج سندھ میں اپنی زمینوں میں ہونے کے لئے بھیج دیا۔اس پر مجھے جو رپورٹ آئی وہ یہ تھی کہ یا تو ہمارے ہاں بارہ تیرہ من مکئی ہوتی تھی یا چوالیس من فی ایکڑ ہوئی ہے۔گویا اس کی پیداوار اتنی تو نہ ہوئی جتنی اُن کی ہوتی ہے مگر بہر حال پہلے سے قریباً چار گنا ہوئی۔مگر اس بیچ میں نقص یہ ہے کہ ہر دفعہ نیا منگوانا پڑتا ہے۔دوبارہ اس میں سے صرف بھوسہ ہی نکلتا ہے۔چنانچہ دوسری دفعہ ہم نے یہاں ربوہ کے پاس وہ بیج بو دیا تو جو مکئی نکلی یوں معلوم ہو تا تھا کہ اس کے اندر کوئی پھیکا سا چھونا پڑا ہوا ہے اور پھر اتنی پیداوار بھی نہ ہوئی لیکن پہلی دفعہ اس سے چوالیس من مکئی پیدا ہو گئی۔پس اگر ہمارے ملک میں بھی کوشش کی جائے تو آمد نہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔باہر تو لوگ بڑی بڑی پیداوار کرتے ہیں۔ہمارے ایک دوست اٹلی میں مبلغ تھے، ان کی شادی بھی وہیں ہوئی ہے ان کا خسر زمیندار تھا۔میں نے ان سے پوچھا کہ گزارہ کس طرح ہوتا ہے ؟ دراصل ہم نے ان کو فارغ کر دیا تھا۔وہ کہنے لگے میر اخسر میری امداد کرتا ہے۔میں نے سمجھا ان کا خسر بڑا مالدار ہو گا۔مگر وہ کہنے لگے کہ میرے خسر کا باپ قنصل تھا۔اس نے کچھ زمین خریدی تھی جو وہ اپنی بیٹی کو دے گیا اور بیٹے کو محروم کر گیا کیونکہ وہ اپنے بیٹے پر خوش نہیں تھا۔بیٹی نے آگے وہ زمین اپنے بھائی کے سپر د کر دی کیونکہ وہ مالدار ہے اور اُسے کہا کہ تُو اس سے گزارہ چلا۔میں نے کہا کتنی زمین ہے ؟ کہنے لگے چودہ ایکٹڑ۔میں نے کہا جس رنگ میں