انوارالعلوم (جلد 25) — Page 205
انوار العلوم جلد 25 205 بھاری ذمہ داری ہم سے ادا ہو جائے۔پھر میں جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ بہت بڑے کام ہمارے ذمہ ہیں۔اس وقت یورپ میں ہماری طرف سے پانچ مشن ہیں، انگلینڈ میں مشن ہے ، سپین میں مشن ہے جس کو ہم کوئی خرچ نہیں دیتے۔جرمنی میں مشن ہے، سوئٹزر لینڈ میں مشن ہے ، ہالینڈ میں مشن ہے۔اب ہم سکنڈے نیویا میں مشن کھول رہے ہیں جس کے لئے مختلف جماعتوں سے چندے مانگے گئے ہیں۔دوستوں کی طرف سے وعدے تو آگئے ہیں لیکن نقدر قم بہت کم وصول ہوئی ہے حالانکہ میں نے کہا تھا کہ وہ وعدہ نہ کرو جو فوراً پورا نہ کر سکو۔چنانچہ وعدے تو چھپیں ستائیس ہزار کے ہیں لیکن نقد ر تم اس وقت تک صرف سات ہزار وصول ہوئی ہے اور یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔میں نے کہا تھا کہ جو وعدہ کرے وہ اُتنا ہی کرے جو فوراً دے سکے۔اور ابھی تو اور بہت سے ملک ہیں جن میں ہم نے اپنے مشن قائم کرنے ہیں۔مثلاً پیجیئم ہے ، فن لینڈ ہے ، سویڈن ہے اس میں ہم ایک مشن تو سکنڈے نیویا کے نام سے قائم کر رہے ہیں مگر بہر حال یہ اتنا بڑا ملک ہے کہ اس میں تین مشن ہونے چاہئیں۔اسی طرح ڈنمارک ہے ، پھر اٹلی ہے جو بڑا اہم ملک ہے کیونکہ عیسائیت نے وہیں ترقی کی ہے اور وہ عیسائیت کا گہوارہ ہے۔غرض یہ ممالک ابھی پڑے ہوئے ہیں جن میں ہم نے مشن کھولنے ہیں۔اور ایک ایک مشن کم سے کم دو چار ہزار روپیہ ماہوار کا خرچ چاہتا ہے۔پھر مساجد ہیں۔ہالینڈ کی مسجد تو عورتوں کی ہمت سے بن گئی مگر ابھی ان کی ہمت نامکمل ہے کیونکہ ابھی بہت سی رقم اس کی دینی ہے۔اس لئے میں عورتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنا باقی چندہ دیں۔کوئی تیس چونیتیس ہزار روپیہ وہ اور دے دیں تو انشاء اللہ ہالینڈ کی مسجد مکمل ہو جائے گی۔مگر ابھی تو اور بھی کئی مسجدیں بنی ہیں۔مثلاً ہیمبرگ میں گورنمنٹ نے مسجد کے لئے ہمارے پاس زمین بیچی ہے۔وہاں بھی انشاء اللہ جلد مسجد بنانے کا ارادہ ہے۔جس پر ستر ہزار روپیہ کے خرچ کا اندازہ ہے۔زیورک میں بھی میں آتی دفعہ کہہ آیا تھا کہ وہاں زمین خرید لو وہاں بھی مسجد بنائیں گے۔پھر فرانس بھی