انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 152

انوار العلوم جلد 25 152 سفر یورپ سے واپسی پر کراچی میں خطار تب مشکل۔اگر یہ کہا جائے کہ بالکل اچھے ہیں تو یہ جھوٹ بن جاتا ہے اور اگر کہا جائے کہ طبیعت اچھی نہیں تو اس سے دوستوں کو صدمہ پہنچنے کا ڈر ہوتا ہے۔اور پھر بعض لوگ پوچھتے بھی ایسے وقت ہیں جب طبیعت خراب ہوتی ہے۔اس وقت مجبوراً یہی کہنا پڑتا ہے کہ طبیعت اچھی نہیں اور یہ سن کر انہیں تکلیف ہوتی ہے۔اور اگر دوسرے وقت یہ کہا جائے کہ طبیعت اچھی ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ اب یہ کام کے بالکل قابل ہیں ان پر جس قدر بوجھ ڈالا جا سکتا ہے ڈال دینا چاہئے۔جیسے بیمار بیل اگر ذرا بھی منہ ہلا دے تو زمیندار اُس پر ہل رکھ دیتا ہے۔بہر حال ڈاکٹری مشورہ یہی ہے کہ میں آرام کروں اور کسی قسم کا فکر اپنے قریب نہ آنے دوں۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کو یہ باتیں اچھی طرح سمجھا دیں۔ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کا فاتح بنایا ہے اور فاتح بننے والی جماعت کے افراد کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ فاتحین والا علم بھی ان میں دیا جائے۔حضرت خلیفہ اول مجھے طب پڑھایا کرتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے آپ بار ہا فرمایا کرتے تھے کہ جماعت کے امام کے لئے طب پڑھنا بھی نہایت ضروری ہے۔آپ کی عادت تھی کہ آپ ایسی طرز پر بات کرتے تھے کہ کسی کو معیوب بھی نہ لگتی اور بات بھی ہو جاتی۔آپ بجائے یہ کہنے کے کہ تمہارے لئے یہ مقدر ہے کہ تم ایک دن جماعت کے امام بنو یوں فرمایا کرتے تھے کہ جماعت کے امام کے لئے طب پڑھنا ضروری ہوتا ہے۔ور نہ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے ایسے کام لے جو اُن کی طاقت سے باہر ہوں اور اس طرح انہیں نقصان پہنچا دے۔ہماری جماعت نے بھی جب دنیا کو فتح کرنا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دوسرے پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے مجھے اس دفعہ کہا کہ آپ ایک احسان یہ کریں کہ ربوہ پہنچ کر ناظروں کیلئے یہ بات لازمی کر دیں کہ وہ دس پندرہ دن چھٹی لے کر کسی پہاڑی مقام پر گزارا کریں۔اور یہ بات اُن کیلئے اختیاری نہ ہو بلکہ انہیں مجبور کر کے بھیجا جائے ورنہ ان کی صحبتیں بالکل تباہ ہو جائیں گی۔میاں بشیر احمد صاحب بھی بیمار رہتے ہیں اور اس طرح دوسروں کی صحتیں بھی گر رہی ہیں اس کا علاج یہی ہے کہ ہر ناظر کو