انوارالعلوم (جلد 25) — Page 150
انوار العلوم جلد 25 150 سفر یورپ سے واپسی پر کراچی میں خطار ----- میرے کام اور میری صحت پر قیاس کرنے کے اپنے کام اور اپنی صحت پر قیاس کر کے مجھے پر اعتراض کر دیا کرتے تھے۔ربوہ آنے کے بعد بعض دوستوں نے کہا بھی کہ آپ مری چلے جایا کریں مگر چونکہ اُس وقت ایک نئے مرکز کی تعمیر ضروری تھی اس لئے میں باہر نہیں جاتا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ میری صحت کمزور ہوتی چلی گئی۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ ان پڑھ آدمی کے منہ سے بھی بڑے پتہ کی بات نکل جاتی ہے۔بیماری کے حملہ سے آٹھ دس دن پہلے مجھے ایک زمیندار دوست نے لکھا کہ آپ کو پتہ ہے پہلے آپ جلسہ سالانہ کے معا بعد اپنے گھر کے افراد کو ساتھ لے کر دریا پر چلے جایا کرتے تھے اور چند دن وہاں گزار آتے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ آپ سارا سال اچھے رہتے۔اب آپ جلسہ سالانہ کے بعد گھر پر ہی رہتے ہیں اور میں ہمیشہ دیکھتا ہوں کہ آپ جلسہ کے بعد ہی بیمار ہوتے ہیں اس لئے آپ کو اپنی صحت کی بحالی کے لئے ضرور کہیں جانا چاہیئے۔میں نے سمجھا کہ یہ آدمی اگر چہ ان پڑھ ہے مگر خدا تعالیٰ نے اسے عقل دی ہے اور اس نے بڑے پتہ کی بات کہی ہے۔چنانچہ چند دن کے بعد ہی مجھ پر بیماری کا حملہ ہو گیا۔بہر حال وہ وقت تو گزر گیا بیماری آئی اور چلی گئی لیکن آئندہ کے لئے بہت زیادہ احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ورنہ ہماری مثال ایسی ہی ہو گی جیسے کہتے ہیں کہ کوئی مرغی سونے کا انڈہ دیا کرتی تھی۔اس کے مالک نے اسے دوگنی خوراک دینی شروع کر دی تا کہ ایک کی بجائے دو انڈے وہ روزانہ دیا کرے مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرغی مر گئی اور وہ ایک انڈہ بھی جاتا رہا۔اگر واقع میں جماعت نے مجھ سے کوئی کام لینا ہے تو آئندہ اسے بہت زیادہ احتیاط سے کام لینا پڑے گا تا کہ مجھ پر زیادہ بار نہ پڑے۔اب بھی بیماری کے حملہ کے بعد سب ڈاکٹروں نے ہمارے ڈاکٹروں کو ملامت کی کہ کیوں انہوں نے وقت پر مجھے کام کرنے سے نہ روکا۔اس غفلت اور کو تاہی کی وجہ سے انہوں نے اپنے فرض کو بھی ادا نہ کیا اور دوسروں کو بھی تکلیف میں ڈالا۔کرنل الہی بخش صاحب جب مجھے دیکھنے آئے تو انہوں نے کہا کہ مجھے آپ کے ڈاکٹروں پر سخت غصہ آتا ہے کہ کیوں انہوں نے آج سے سولہ سال پہلے آپ کو کام کرنے سے نہیں روک دیا۔اگر وہ روک دیتے تو اس بیماری کا حملہ نہ ہوتا۔