انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 121

121 احباب جماعت کے نام پیغامات انوار العلوم جلد 25 اگر کوئی احمدی یہ خیال کرتا ہے کہ میں ربوہ چھوڑ کر بھاگ گیا ہوں اور ربوہ تباہ ہونے والا ہے تو اُس بد بخت کو کوئی زمینی طاقت نہیں بچا سکتی۔کیونکہ جس نے خدا تعالیٰ کو دیکھ کر انکار کیا اُس کے دل میں ایمان اور دماغ میں عقل کوئی شخص نہیں پیدا کر سکتا۔میں جب انسان ہوں تو بیماری سے بالا نہیں۔اور جب میں ایسی بیماری میں مبتلا ہوں جس کے متعلق چھ سات چوٹی کے ڈاکٹروں نے کہا ہے جو احمدی نہیں تھے کہ یہ محنت شاقہ کا نتیجہ ہے بلکہ ایک ڈاکٹر نے تو یہ بھی کہا کہ اگر میرا بس چلتا تو میں دو سال پہلے ان کو پکڑ کر نکال دیتا کہ کیوں انہوں نے جبراً آپ کو کام سے نہیں روکا۔پس ان نافقین کے اعتراضوں کا یہ مطلب ہے کہ اگر کوئی خلیفہ محنت کرتے کرتے بیمار ہو جائے تو اُس کو یہ بھی اجازت نہیں کہ وہ علاج کے لئے باہر جائے۔اور اگر وہ باہر جائے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ جماعت کو چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔اگر ان خبیثوں کے اعتراض میں کوئی صداقت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خلافت ایک لعنت ہے۔مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ میرے باہر علاج کرانے سے مجھے کوئی فائدہ ہو گا یا نہیں مگر مجھے اس بات کا یقینی علم ہے کہ جن منافق احمدیوں کے دل میں ایسا خیال گزرا ہے اُن کے گھروں کو خداتعالی برباد کر کے چھوڑے گا اور وہ ربوہ کی موجودگی اور ترقی میں اپنے گھروں کو برباد ہوتے دیکھیں گے۔میں نے کبھی خدائی کا دعویٰ نہیں کیا کہ میں خواہ کتنی محنت تم لوگوں کے لئے کروں نہ میں بیمار ہوں گا، نہ مجھے علاج کی ضرورت ہو گی۔مجھے پہلے تو بیماری کے حملہ کی شدت کی وجہ سے یہ بھی یاد نہیں رہا تھا کہ بیماری کا حملہ کس طرح ہوا اور کس دن ہوا۔بعد میں لوگوں سے باتیں کرنے سے مجھے پتہ لگا کہ یہ حملہ ہفتہ کے دن ہوا تھا۔اور عورتوں میں درس قرآن دینے کے بعد ہوا تھا۔پس میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں نے باوجود کمزور اور بیمار ہونے کے تمہاری بیویوں اور لڑکیوں کو خدا کا کلام سنایا۔اگر میر اقصور یہی ہے کہ جیسا کہ ظاہر ہے تو سمجھ لو کہ اس اعتراض کے بدلہ میں خدا تعالیٰ کی بے حد نصرت مجھے ملے گی اور خدا تعالیٰ کا بے حد غضب ایسے معترضین پر نازل ہو گا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں سارے کارکن نکال کر اپنے ساتھ لے جارہا ہوں۔