انوارالعلوم (جلد 25) — Page 120
انوار العلوم جلد 25 مالیر کراچی 120 احباب جماعت کے نام پیغامات مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسیح الثانی و مصلح موعود " پیغام از کراچی مؤرخہ 1955ء-4-19 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (الفضل 21/ اپریل 1955ء) اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ "برادران! السّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اب انشاء اللہ چند دن میں ہم یورپ روانہ ہونے والے ہیں۔اور ممکن ہے کہ جب یہ مضمون شائع ہو تو روانہ ہو چکے ہوں یا روانہ ہونے والے ہوں۔مجھے معلوم ہوا ہے بعض مفسد اور شر پسند لوگ یہ مشہور کر رہے ہیں کہ گویا میرا بیوی بچوں کو ساتھ لے کر جانا یہ مفہوم رکھتا ہے کہ گویا میرے نزدیک ربوہ خدانخواستہ اب تباہ ہونے والا ہے۔جو احمدی یا غیر احمدی یہ خیال رکھتا ہے وہ خود تباہ ہونے والا ہے۔ربوہ تباہ ہونے والا نہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے شرارتی لوگوں کو ذلیل اور رسوا کر دے گا۔اور وہ اس تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے جس تباہی کی انہوں نے ربوہ اور اس کے رہنے والوں کے متعلق خبر دی تھی۔اس نظارہ کو دیکھنے کے بعد کہ قادیان کی تمام آبادی کو میں بحفاظت نکال کر لے آیا۔اور کئی سال تک بے سامانی میں ان کے کھانے پینے کا سامان کیا۔اور سینکڑوں احمدیوں کی لاکھوں روپے کی امانتیں بحفاظت ان کے گھروں تک پہنچا دیں۔اور یہ دیکھتے ہوئے کہ باوجود ہر قسم کی مخالفت کے اور کلی بے سامانی کے میں نے ہزاروں آدمیوں کو ربوہ میں بسا دیا۔اور کالج اور سکول بھی بنوا دیئے۔اور زنانہ کالج بھی بنوا دیا جو قادیان میں نہیں تھا۔اور پختہ دفتر بھی بنوا دیئے جو قادیان میں نہیں تھے۔اور خدا کے فضل سے پختہ جامعۃ المبشرین بھی بن رہا ہے۔ان تمام باتوں کے دیکھنے کے بعد