انوارالعلوم (جلد 25) — Page 81
انوار العلوم جلد 25 81 سیر روحانی (8) اور عارضی طور پر اب بھی نکلا ہے۔اور جب ہم کہتے ہیں " عارضی طور پر " تو لازماً اس کے معنے یہ ہیں کہ پھر مسلمان فلسطین میں جائیں گے اور بادشاہ ہونگے۔لازماً اس کے یہ معنے ہیں کہ پھر یہودی وہاں سے نکالے جائیں گے اور لازماً اس کے یہ معنے ہیں کہ یہ سارا نظام جس کو یو۔این۔او کی مدد سے اور امریکہ کی مدد سے قائم کیا جارہا ہے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو توفیق دے گا کہ وہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجادیں اور پھر اس جگہ پر لا کر مسلمانوں کو بسائیں۔احادیث میں یہود کی تباہی کی پیشگوئی دیکھو حدیوں میں بھی یہ پینگوئی آتی ہے ، حدیثوں میں یہ ذکر ہے کہ فلسطین کے علاقہ میں اسلامی لشکر آئیگا اور یہودی اس سے بھاگ کر پتھروں کے پیچھے چھپ جائیں گے۔اور جب ایک مسلمان سپاہی پتھر کے پاس سے گزرے گا تو وہ پتھر کہے گا اے مسلمان خدا کے سپاہی! میرے پیچھے ایک یہودی کافر چھپا ہوا ہے اس کو مار۔22 جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی تھی اُس وقت کسی یہودی کا فلسطین میں نام ونشان بھی نہیں تھا۔پس اس حدیث سے صاف پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیشگوئی فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ میں یہودی اس ملک پر قابض ہو نگے مگر پھر خدا مسلمانوں کو غلبہ دیگا اور اسلامی لشکر اس ملک میں داخل ہونگے اور یہودیوں کو چن چن کر چٹانوں کے پیچھے ماریں گے۔فلسطین مستقل طور پر خدا تعالیٰ کے پس عارضی میں اس لئے کہتا ہوں که أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ صالح بندوں کے ہاتھ میں رہے گا الصلِحُونَ کا حکم موجود ہے۔مستقل طور پر تو فلسطین عِبَادِيَ الصّلِحُونَ کے ہاتھ میں رہنی ہے۔سو خدا تعالیٰ کے عِبَادِيَ الصّلِحُونَ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لوگ لازماً اس ملک میں جائیں گے۔نہ امریکہ کے ایٹم بم کچھ کر سکتے ہیں، نہ ایچ ہم کچھ کر سکتے ہیں، نہ روس کی مدد کچھ کر سکتی ہے۔یہ خدا کی تقدیر ہے یہ تو ہو کر رہنی ہے چاہے دنیا کتنازور لگا لے۔