انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 537

انوار العلوم جلد 24 537 سال 1954ء کے اہم واقعات "سیر روحانی" میری تقریروں کا مجموعہ ہے۔ایک حصہ اس کا پہلے شائع ہوا تھا جس میں میری پہلی تقریر تھی۔اب تک گیارہ عنوانات پر تقریریں ہو چکی ہیں بہر حال جو پہلی تقریر تھی وہ تو شائع ہو گئی تھی لیکن اب میں نے فیصلہ کیا کہ الگ الگ تقریریں کرنا ٹھیک نہیں۔تین جلدوں میں سب مضمون شائع کر دیا جائے سو اس جلد میں میری پہلی تقریر کو شامل کر کے جو الگ شائع ہو چکی تھی دو سال کی تقریریں مزید برآں شامل کر دی گئی ہیں اور اب یہ جلد 327 صفحہ کی ہو گئی ہے۔اگلے سال انشاء اللہ اس کی دوسری جلد شائع کر دی جائے گی۔مصالحہ سب موجود ہے پھر جب یہ تقریریں ختم ہو جائیں گی تو تیسری جلد شائع ہو جائے گی۔"مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ " وہ بیان ہے جو انکوائری کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور ان کے کہنے پر سوالات کا جواب لکھا گیا تھا مگر عجیب بات ہے غلط فہمیاں ہوتی ہیں تو اس طرح ہوتی ہیں ہائیکورٹ نے جن سوالوں کا جواب مانگا تھا جب وہ ریویو میں چھپا تو گور نمنٹ کی طرف سے ان کو نوٹس آیا کہ تم نے ایسا مضمون چھاپ دیا ہے جس سے بڑے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں آئندہ اس سے احتیاط کرو۔حالانکہ یہ نوٹس ہائیکورٹ کو جانا چاہئے تھا یا پھر فیڈرل کورٹ کو یہ نوٹس جانا چاہئے تھا جس میں آجکل وہ حج صاحب چیف جج ہیں جو انکوائری کمیشن کے بھی صدر تھے۔یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ عدالت سوال کرتی اور ہماری جماعت جواب نہ دیتی۔پس یہ کتابیں ہیں جن کی طرف میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ان کے علاوہ کچھ کتابیں سید محمد سعید صاحب سلیم نے شائع کی ہیں۔ان میں سے بھی بعض ایسی ہیں جو اصل میں سلسلہ کی طرف سے لکھوائی گئی ہیں۔بہر حال وہ کتا ہیں یہ ہیں۔قادیانی مسئلہ کا جواب“ مودودی صاحب کے بیان پر صدر انجمن احمدیہ کا تبصرہ یہ بھی ہائیکورٹ کے کہنے پر لکھا گیا) "محاسن کلام محمود" اور "مسلمان عورت کی بلند شان"۔وہ کہتے ہیں کہ ان کے متعلق بھی دوستوں کو تحریک کی جائے۔یہ جو "محاسن کلام محمود " کتاب ہے اس پر مجھے اس لئے خوشی ہے کہ ہماری جماعت کے ایک نوجوان ادیب نے