انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 538

انوار العلوم جلد 24 538 سال 1954ء کے اہم واقعات اسے لکھا ہے لوگوں میں عادت ہوتی ہے کہ جب وہ ذرا آگے بڑھنا شروع کرتے ہیں تو ان کو خیال ہوتا ہے کہ کوئی ایسی بات نہ کہیں جس سے اس حلقہ میں ہماری بد نامی ہو جائے مگر اس نوجوان کی ہمت ہے کہ اس نے شاعری کا شوق رکھتے ہوئے یہ کتاب لکھ دی اور وہ نہیں ڈرا کہ دوسرے شاعر جن کی مجلسوں میں میں جاتا ہوں وہ مجھے کیا کہیں گے۔یوں میرے دل میں خود خیال آیا کرتا تھا کہ میرے اکثر شعر در حقیقت کسی آیت کا ترجمہ ہوتے ہیں یا کسی حدیث کا ترجمہ ہوتے ہیں یا کسی فلسفیانہ اعتراض کا جواب ہوتے ہیں لیکن لوگ عام طور پر اگر صرف وزن میں ترنم پایا جاتا ہے اور موسیقی پائی جاتی ہے تو سن کر بابا کر لیتے ہیں۔مجھے کئی دفعہ خیال آتا تھا کہ لوگ سمجھنے کی طرف کم توجہ کرتے ہیں۔اگر کوئی شخص اس طرف توجہ کرے تو شاید یہ زیادہ مفید ہو سکے۔چنانچہ اس نوجوان نے یہ پہلی کوشش کی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ اور کوشش کرنے والے کوشش کریں گے یا انہی کو تو فیق مل جائے گی اور یا پھر اور لوگ پید اہو جائیں گے۔در حقیقت اگر دیکھا جائے تو میرے اشعار میں سے ایک کافی حصہ بلکہ میں سمجھتا ہوں ایک چوتھائی یا ایک ثلث حصہ ایسا نکلے گا جو در حقیقت قرآن شریف کی آیتوں کی تفسیر ہے یا حدیثوں کی تفسیر ہے لیکن ان میں بھی لفظ پھر مختصر ہی استعمال ہوئے ہیں ورنہ شعر نہیں بنتا۔شعر کے چند لفظوں میں ایک بڑے مضمون کو بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔یا اسی طرح کئی تصوف کی باتیں ہیں جن کو ایک چھوٹے سے نکتہ میں حل کیا گیا ہے مثلاً اس نوجوان نے بھی ایک شعر اس میں درج کیا ہے اور اس کو اس شکل میں پیش کیا ہے کہ دیکھو یہ بڑا ادبی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تصوف کا یہ ایک پر انا سوال ہے کہ خلق عالم کس طرح ہوا۔اس سوال کا جواب اس شعر میں دیا گیا ہے جو در حقیقت ایک فلسفیانہ بات کا جواب ہے کہ اصل میں ہمارے نزدیک خلق عالم کا ذریعہ یہ ہے اگر اس کو کوئی زیادہ غور کے ساتھ دیکھے تو اسے پتہ لگ سکتا ہے بے شک انسان جب محبت کی دھن میں ہوتا ہے تو اس میں کئی خیالات عام جذباتی بھی آجاتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی خیالات ہوتے ہیں جن میں فلسفہ یا حکمت بیان کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔