انوارالعلوم (جلد 24) — Page 425
انوار العلوم جلد 24 425 اپنے اندر پجہتی پیدا کر و اور پہلے سے بھی زیادہ جوش ایک ڈاکٹر کا یہ لکھنا کہ میں نے ہیں مریضوں کا علاج کیا تمسخر ہے کیونکہ اس نے جو کام کیا ہے اپنے ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے کیا ہے خدام الاحمدیہ کا ممبر ہونے کی حیثیت سے نہیں کیا۔یا پاکستان کی تائید میں اگر کوئی جلسہ ہوتا ہے یا جلوس نکلتا ہے اور تم اس میں حصہ لیتے ہو اور پھر اپنی رپورٹ میں اس کا ذکر کرتے ہو تو یہ تمسخر ہے کیونکہ یہ خدمت تم نے ایک پاکستانی ہونے کے لحاظ سے کی ہے۔برکت تمہیں تبھی حاصل ہو گی جب تم اپنی ساری حیثیتوں کو نمایاں کر کے کام کرو گے۔جب تمہیں ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کام کرنا پڑے تو تم پاکستانی حیثیت کو نمایاں کرو، جب تمہیں ایک انسان ہونے کی حیثیت سے کام کرنا پڑے تو تم اپنی انسانیت کو نمایاں کرو۔مثلاً اگر کوئی چلتے ہوئے گر جاتا ہے تو یہ انسانیت کا حق ہے کہ اسے اٹھایا جاے اس میں خدام کا کیا سوال ہے۔ایک ہندوستانی پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے، ایک پنجابی پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے، ایک چینی اور ایک جاپانی پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے، ایک سرحدی پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے۔پس اگر اتفاقی طور پر کوئی شخص ایسا کام کرتا ہے تو یہ خدام الاحمدیہ والی خدمتِ خلق نہیں کہلا سکتی بلکہ یہ وہ خدمت ہو گی جو ہر انسان پر انسان ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتی ہے۔اگر وہ ان فرائض کو ادا نہیں کرتا تو وہ انسانیت سے بھی گر جاتا ہے۔پس اپنے پروگراموں پر ایسے رنگ میں عمل کرو جیسے اس دفعہ لاہور کے خدام نے خصوصیت سے نہایت اعلیٰ کام کیا ہے۔اسی طرح ربوہ کے خدام نے بھی اچھا کام کیا ہے، سیالکوٹ کے خدام نے بھی اچھا کام کیا ہے، ملتان کے خدام نے بھی اچھا کام کیا ہے اور کراچی کے خدام نے بھی بعض اچھے کام کئے ہیں گو وہ نمایاں نظر آنے والے نہیں۔پس متواترا اپنے جلسوں اور مجلسوں میں اس امر کو لاؤ کہ تم نے زیادہ سے زیادہ خدمتِ خلق کرنی ہے اور ایک پروگرام کے ماتحت کرنی ہے تاکہ ہر شخص کو تمہاری خدمت محسوس ہو۔تم میں سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ دکھاوا ہے، تم میں سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ نمائش ہے مگر کبھی کبھی نمائش بھی کرنی پڑتی ہے۔اگر تمہارے دل کی خوبی اور نیکی کا