انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 424

انوار العلوم جلد 24 424 اپنے اندر پجہتی پیدا کر و اور پہلے سے بھی زیادہ جوش سے کھڑے نہیں ہو سکتے۔تو وہ بیٹھ سکتے ہیں۔اگر نماز میں بیٹھنے کی اجازت ہے تو خدام کا جلسہ نماز سے زیادہ اہم نہیں کہ اس میں بیٹھا نہیں جاسکتا۔اگر کچھ دیر بیٹھنے کے بعد اسے آرام آجائے تو وہ دوبارہ کھڑا ہو جائے۔اور اگر کھڑا ہونے والا تکلیف محسوس کرے تو وہ بیٹھ جائے۔اس طرح بیٹھنے والے دیکھنے والوں پر یہ اثر نہیں ڈالیں گے کہ ان کا کوئی نظام نہیں بلکہ صرف یہ اثر پید اہو گا کہ وہ بیمار اور کمزور ہیں۔اس کے بعد میں خدام الاحمدیہ کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس دفعہ خدام نے طوفان وغیرہ کے موقع پر نہایت اعلیٰ درجہ کا کام کیا ہے۔اب انہیں اپنے اجلاس میں اس امر پر غور کرنا چاہئے کہ اس جذبہ کو جو نہایت مبارک جذبہ ہے اور زیادہ کس طرح ابھارا جائے۔کوئی ایسی خدمت جو صرف رسمی طور پر کی جائے حقیقی خدمت نہیں کہلا سکتی مثلاً بعض لوگ اپنی رپورٹوں میں لکھ دیتے ہیں کہ ہم نے کسی کا بوجھ اٹھایا۔اب اگر تو کسی مجلس کے تمام نوجوان یا بارہ پندرہ خدام سارا دن لوگوں کے بوجھ اٹھاتے پھرتے ہوں یا کسی ایک وقت مثلاً عصر کے بعد روزانہ ایسا کرتے ہوں یا گھنٹہ دو گھنٹہ ہر روز اس کام پر خرچ کرتے ہوں تب تو یہ خدمت کہلا سکتی ہے لیکن اس قسم کی رپورٹ کو میں کبھی نہیں سمجھا کہ اس مہینہ میں ہمارے نوجوانوں نے کسی کا بوجھ اٹھایا۔یہ وہ خدمت نہیں جس کا خدام الاحمدیہ کے نظام کے ماتحت تم سے تقاضا کیا جاتا ہے بلکہ یہ وہ خدمت ہے جس کا بجالانا ہر انسان کے لئے اس کی انسانیت کے لحاظ سے ضروری ہے۔۔در حقیقت مختلف خدمات مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے ہوتی ہیں مثلاً جو پاکستان میں رہتا ہے اس پر کچھ فرائض پاکستانی ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتے ہیں، کچھ فرائض ایک انسان ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتے ہیں، اسی طرح اگر کوئی سرکاری ملازم ہے تو کچھ فرائض اس پر سرکاری ملازم ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتے ہیں، اگر کوئی ڈاکٹر ہے تو کچھ فرائض اس پر ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے عائد ہوتے ہیں، اگر کوئی پولیس مین ہے تو کچھ فرائض اس پر پولیس مین ہونے کی حیثیت سے عائد ہوتے ہیں۔ایک حیثیت کے کام کو اپنی دوسری حیثیت کے ثبوت میں پیش کرنا محض تمسخر ہوتا ہے۔مثلاً