انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 332

انوار العلوم جلد 24 332 سیر روحانی (7) جھانک کر جانا پڑے گا۔یہ دربار وہ نہیں جہاں تم آؤ گے تو بعض دفعہ تم کو قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا جائے گا۔یہاں تم کو سپاہی دھتکاریں گے نہیں۔یہاں تم مسجد کے قریب آؤ گے تو فرشتے تم کو پکڑ کے خدا کے سامنے پیش کریں گے اور خدا کو تم زندہ دیکھ لو گے۔اس سے زیادہ اچھا موقع تمہیں اور کہاں مل سکتا ہے۔فلاح اور کامیابی کی بشارت پھر فرماتا ہے حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الفلاح آؤ! آؤ! کامیابی کی طرف آؤ! دوڑ کر کامیابی کی طرف آؤ کہ کامیابی تمہیں ملنے کے لئے تیار بیٹھی ہے۔دیر نہ کر ووہ تڑپ رہی ہے تمہاری جیبوں میں پڑنے کے لئے۔دنیا کے بادشاہوں کے حضور میں لوگ نذرانے گزار نے جاتے ہیں اور اعلان ہوتا ہے سواشر فیاں پیش کی گئی ہیں۔بیشک پرانے زمانہ میں بادشاہ کہہ دیتے تھے کہ ان کو بھی دو لیکن بادشاہ کو بہر حال دینا پڑتا تھا۔نظام حیدر آباد تو اس کو لے کے جیب میں ڈال لیتے تھے۔انگلستان وغیرہ کے بادشاہوں کے سامنے بھی نذرانے پیش کئے جاتے ہیں اور جن کے ہاں نذرانوں کا رواج نہیں اُن کے ہاں دعوتیں اُڑائی جاتی ہیں مثلاً پریذیڈنٹ کہیں جائے گا تو بڑی دعوت کی جائے گی بڑے بڑے آدمیوں کو بلایا جائے گا اور لاکھوں روپیہ خرچ کیا جائے گا۔مگر یہاں وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ اے لوگو! تمہیں صرف زیارت ہی نہیں ہو گی بلکہ تم میں سے ہر فرد واحد امیر ہو یا غریب، کنگال ہو یا حیثیت والا سب کے سب کی گودیاں بھر دی جائیں گی اور یہاں سے تمہیں انعام دے کر واپس کیا جائے گا۔غرض اِس دربار میں جانے والا حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ چاہے وہ کتنا ذلیل اور کنگال ہو کہ اس کی شکل دیکھ کر لوگوں کو گھن آتی ہو جب اُس دربار میں چلا جاتا ہے تو وہاں وہ ایسا مقبول ہو جاتا ہے کہ بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اُس کے آگے سر جُھکانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔