انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 331

انوار العلوم جلد 24 331 سیر روحانی (7) جائز سمجھتا ہوں اور وہ خدا کی ذات ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی زبان ہیں پھر کہتا ہے أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ - اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ۔اور سُنو! کہ میں یہ بھی عَلَى الْإِعْلان کہتا ہوں کہ محمد کے سوا آج خدا تعالیٰ کے احکام دُنیا کو کوئی نہیں سنا سکتا۔وہ خدا کی زبان ہے، وہ خدا کی نفیری ہے۔میں اُس کی زبان پر کان دھر تا ہوں۔میں اُس کی نفیری کی آواز پر رقص کرتا ہوں۔تم خواہ کسی کے پیچھے چلو میں اللہ کے سوا کسی کے پیچھے نہیں چل سکتا اور اُس کے پیچھے چلنے کا رستہ صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی بتا سکتے ہیں۔پھر کہتا ہے حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ حَيَّ خدائی دیدار کی دعوت عام عَلَى الصَّلوۃ۔آؤ! آؤ ! خدا کے سامنے جھکنے میں میرے شریک بنو۔آؤ ہم سب مل کر خدائے واحد کی عبادت کریں اور اپنے جسم کے ہر ذرہ کو اس کی اطاعت میں لگا دیں۔دنیا کے لوگ نوبت خانے بجاتے ہیں اور بجا کے کہتے ہیں آؤ اور بادشاہ کی زیارت کر کے چلے جاؤ۔جو انعام پانے والے ہوتے ہیں وہ تو چند ہی ہوتے ہیں۔باقی تو صرف مٹی اور غبار کھا کے چلے جاتے ہیں۔یہاں جو بادشاہ کی تاجپوشی ہوئی تھی یالنڈن میں تاجپوشی کی رسم ہوئی ہے تو بادشاہ کے پاس جانے والے یا اس سے کوئی بات کرنے والے زیادہ سے زیادہ پانچ سو یا ہزار ہونگے۔حالانکہ یہ بھی کوئی خاص انعام نہیں ہے مگر جمع وہاں تیس لاکھ ہوئے تھے۔باقی تیس لاکھ صرف گر دہی کھا کے آگئے اور کیا ہوا۔پھر کچھ ایسے تھے جن کو سواری بھی نظر نہیں آئی اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے دُور سے سواری دیکھی اور شکل نہیں پہچانی اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے دُور سے تیز گاڑی کو چلتے ہوئے دیکھا۔مگر یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ حَيَّ عَلَى الصَّلوۃ۔دوڑ کے آؤ۔دیکھو خدا کے سامنے تمہاری حاضری کرائی جائے گی۔یہ دربار وہ نہیں کہ جہاں سے دُور دُور سے