انوارالعلوم (جلد 24) — Page 304
انوار العلوم جلد 24 304 سیر روحانی (7) میں ہیں گاندھی جی اور قائد اعظم کے درمیان یہ سمجھوتا ہوا ہے کہ جو ہندو ادھر رہے گا وہ پاکستانی ہے اور جو مسلمان اُدھر رہ جائے وہ ہندوستانی ہے اور اپنی اپنی حکومت اپنے اپنے افراد کو بچائے اور وہ لوگ حکومت کے وفادار رہیں۔قائد اعظم اور گاندھی جی کے اس فیصلہ کے مطابق ہم چونکہ ہندوستان میں آرہے ہیں اس لئے ہم آپ کے ساتھ وفاداری کرنے کے لئے تیار ہیں بشر طیکہ آپ ہمیں ہندوستانی بنائیں اور رکھیں۔وہ کہنے لگے ہم تو رکھ رہے ہیں۔میں نے کہا کہ آپ کیا ر کھ رہے ہیں فسادات ہو رہے ہیں، لوگ ماررہے ہیں قادیان کے ارد گرد جمع ہو رہے ہیں مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے۔کہنے لگے آپ نہیں دیکھتے ادھر کیا ہو رہا ہے؟ میں نے کہا ادھر جو ہو رہا ہے وہ تو میں نہیں دیکھ رہا میں تو اُدھر سے آیا ہوں۔لیکن فرض کیجیئے ادھر جو کچھ ہو رہا ہے ویساہی ہو رہا ہے تب بھی میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہاں کا جو ہندو ہے وہ تو پاکستانی ہے اور اس کی ہمدردی پاکستان گورنمنٹ کو کرنی چاہئے ہم ہیں ہندوستانی، آپ کو ہماری ہمدردی کرنی چاہیئے اِس کا کیا مطلب کہ یہاں کے ہندوؤں پر سختی ہو رہی ہے تو آپ وہاں کے مسلمانوں پر سختی کریں گے؟ کہنے لگے آپ جانتے نہیں لوگوں میں کتنا جوش پھیلا ہوا ہے۔میں نے کہا آپ کا کام ہے کہ آپ اس جوش کو دبائیں۔بہر حال اگر آپ مسلمانوں کو رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اُنکی حفاظت کرنی پڑیگی۔وہ کہنے لگے ہم کیا کر سکتے ہیں۔لوگوں کو جوش اس لئے آتا ہے کہ آپ کے پاس ہتھیار ہیں آپ انہیں کہیں کہ جو ہتھیار ناجائز ہیں وہ چھوڑ دیں۔میں نے کہا آپ یہ تو فرمائیے میں اُن کا لیڈر ہوں اور میں انہیں کہتا رہتا ہوں کہ مجرم نہ کرو، شرارتیں نہ کرو، فساد نہ کرو، اگر کسی نے ناجائز ہتھیار رکھا ہوا ہے تو کیا وہ مجھے بتا کر رکھے گا۔میں تو انہیں کہتا ہوں مجرم نہ کرو پس وہ تو مجھ سے چھپائے گا اور جب اُس نے اپنا ہتھیار مجھ سے چھپایا ہوا ہے تو میں اُسے کیسے کہوں کہ ہتھیار نہ رکھے۔کہنے لگے آپ اعلان کر دیں کہ کوئی احمدی اپنے پاس ہتھیار نہ رکھے۔میں نے کہا اگر میں ایسا کہوں تو میری جماعت تو مجھے لیڈر اسی لئے مانتی ہے کہ میں معقول آدمی ہوں۔وہ مجھے کہیں گے صاحب! ہم نے آپ کو معقول آدمی سمجھ کے اپنا لیڈر بنایا تھا یہ کیا بیوقوفی