انوارالعلوم (جلد 24) — Page xxxii
انوار العلوم جلد 24 پھر آگے چل کر فرمایا: xxii ”جب بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے ہائی اسکول کا قیام فرمایا تو اس کا نام تعلیم الاسلام ہائی اسکول رکھا۔آپ کی نقل میں ہم نے بھی اس کالج کا نام تعلیم الاسلام کالج رکھا ہے۔آپ نے جب اسکول بنایا تو آپ کی غرض یہ تھی کہ اس میں صرف قرآن کریم اور حدیث ہی نہیں بلکہ دوسرے دنیوی علوم بھی پڑھائے جائیں"۔(انوار العلوم جلد 24 صفحہ 476) پھر حضور نے غیر احمدی طلباء کو دینی علوم کے حصول کی طرف زیادہ توجہ دینے کی نصیحت کی کہ دنیوی علوم تو اس کالج سے باہر بھی مل سکتے ہیں اور تمام اساتذہ اور طلبہ کو یہ نصیحت فرمائی کہ اپنے کریکٹر وہ بناؤ جو اسلامی ہوں۔ایک اہم امر یا غرض اس کالج کے بنانے کی یہ بیان فرمائی کہ اسلام اور اس کی تعلیم کے خلاف جو اعتراضات ہیں۔مختلف اہم شخصیات پر جو الزام تراشیاں کی جاتی ہیں، تہمتیں لگائی جاتی ہیں، اسلامی تعلیم کو بدنام کرنے کے لئے اس کے سیاق و سباق کو چھوڑ کر کچھ اور ہی پیش کر دیا جاتا ہے۔اس کے لئے بھی کالج کے طلبہ کو کام کرنا چاہیے اور یورپین مصنفین کی کتابیں بھی اسلام کے خلاف پڑھنی چاہئیں۔اس غرض کے لئے دنیا کے علوم سیکھیں اور اپنے کردار کو اسلامی تعلیم کے مطابق کریں۔(12) افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1954ء 1954ء کا جلسہ سالانہ 27،26، 28 دسمبر کو ربوہ میں منعقد ہوا۔جس میں علماء احمدیت کی ٹھوس تقاریر کے علاوہ امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیر الدین محموداحمد صاحب خلیفة المسیح الثانی نے تینوں دن خطاب فرمائے۔افتتاحی خطاب مورخہ 26 دسمبر کو تھا جس میں حضور نے نہایت دلنشیں اور اثر انگیز پیرایہ میں احبابِ جماعت کو اُن کی اہم اور عظیم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور جلسہ کے بابرکت ایام کو خشوع و خضوع اور ذکر الہی کے ساتھ گزارنے اور اپنے لئے اور اسلامی ممالک کے لئے خصوصی دعا کی تحریک کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:۔