انوارالعلوم (جلد 24) — Page 256
انوار العلوم جلد 24 256 سیر روحانی (7) کہ میں بڑا آدمی ہوں معاہدہ پر میرے دستخط نہیں اگر میرے دستخط ہو جائیں تو معاہدہ محفوظ ہو جائے گا اس سے زیادہ کوئی بات نہیں۔آپ نے فرمایا کوئی ضرورت نہیں۔آب ابو سفیان کو فکر پڑی تو وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور جا کر کہنے لگا ابو بکر ! تم جانتے ہو میری کتنی بڑی پوزیشن ہے میرے دستخط معاہدہ پر نہ ہوں تو مکہ والوں پر وہ کیسے حجت ہو سکتا ہے میرے دستخط ہونے چاہئیں اور میں پھر کہتا ہوں کہ مدت بھی بڑھادی جائے۔تم محمد رسول اللہ سے کہو وہ تمہاری بات بڑی مانتے ہیں تم ان سے کہو کہ معاہدہ پھر سے ہو جائے اور اُس پر میرے دستخط بھی ہو جائیں۔آپ نے فرمایا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا؟ اُس نے کہا۔ہاں میں نے کہا تو تھا مگر انہوں نے فرمایا کہ جب معاہدہ ہو چکا ہے تو پھر نئے معاہدہ کی کیا ضرورت ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے۔ابو سفیان !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں میری پناہ بھی شامل ہے اِس لئے کسی نئی پناہ کی ضرورت نہیں۔اس کے بعد وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور اُن بھی یہی کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں کہ وہ ہمارے ساتھ نیا معاہدہ کریں۔حضرت عمرؓ نے کہا۔میں تو تمہارا سر پھوڑنے کے لئے بیٹھا ہوں کسی نئے معاہدہ کا سوال ہی کیا ہے۔پھر وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ میاں کیا بیوقوفی کی باتیں کرتے ہو تمہارے ہونگے دو دو آدمی ہمارا تو ایک ہی آدمی ہے جسے اُس نے پناہ دی اُسے ہم نے بھی پناہ دی اور جس سے وہ لڑ پڑے اُس سے ہم بھی لڑ پڑے ہمارا بیچ میں کیا دخل ہے۔پھر وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔پھر وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور جاکر کہا مرد تو سمجھتے نہیں یہ لڑاکے ہوتے ہیں ان کو شکار کا شوق ہوتا ہے، عورتیں بڑی رقیق القلب ہوتی ہیں میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ قوم کے خون ہو جائیں گے، فساد ہو جائے گا اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔تم جانتی ہو۔میں سردار ہوں جب میرے دستخط نہیں ہوئے تو دوسرے اس کو کیسے مان لیں گے ؟ میں تکلیف اُٹھا کے آیا ہوں کہ کسی طرح معاہدہ ہو جائے اور میرے دستخط ہو جائیں۔تم ذرا اپنے ابا سے چل کے کہو