انوارالعلوم (جلد 24) — Page 255
انوار العلوم جلد 24 255 سیر روحانی (7) اِس لڑائی کو ٹلا دیا جائے۔جس وقت حدیبیہ کی صلح ہوئی ہے اُس وقت ابو سفیان جو اُن کا لیڈر تھا مکہ میں موجود نہیں تھا وہ باہر تھا مگر اس واقعہ کے وقت ابو سفیان موجود تھا۔مکہ کے رؤساء آخر پریشان ہو کر ابو سفیان کے پاس آئے اور اُس سے کہا کہ اِس اِس طرح واقعہ ہو گیا ہے۔وہ کہنے لگا واقعہ کیا ہے ؟ میں نے تو سنا ہے کہ تم خود وہاں گئے تھے اور خزاعہ پر تم نے حملہ کیا۔وہ کہنے لگے جو ہو گیا سو ہو گیا تم لیڈ ر ہو تمہارا کام ہے کہ اس کو سنبھالو۔تم مدینہ جاؤ اور وہاں جاکر دوبارہ معاہدہ کرو اور یہ بہانہ بنالو کہ دس سال تھوڑی مدت ہے ہم پندرہ سال تک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اُن کو پتہ بھی نہیں لگے گا کہ ہم کیوں کر رہے ہیں۔نیا معاہدہ ہو جائے گا اور ہم کہیں گے کہ اب پچھلی غلطی پر کوئی لڑائی نہیں ہو سکتی۔ابوسفیان نے کہا بہت اچھا چنانچہ وہ چل پڑا۔ابو سفیان کی بہانہ سازی جب وہ مدینہ پہنچا تو اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا آپ جانتے ہیں میں مکہ کا سردار ہوں۔فرمایا ٹھیک ہے۔اُس نے کہا آپ کو معلوم ہے جب صلح حدیبیہ ہوئی تھی میں مکہ میں موجود نہیں تھا اُسوقت معاہدہ ہو گیا۔آپ میری پناہ دیئے بغیر کسی کو کیوں پناہ دے سکتے ہیں۔میں معاہدہ کروں تو معاہدہ مکہ کی طرف سے ہو سکتا ہے میں نہ کروں تو کیسے ہو سکتا ہے ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات سُن کر خاموش رہے۔پھر اُس نے کہا میری تجویز یہ ہے کہ معاہدہ نئے سرے سے کیا جائے اور میں اُس پر دستخط کروں اور دوسرے دس سال تھوڑے ہیں قوم لڑتے لڑتے تھک گئی ہے میرا خیال ہے اس مدت کو پندرہ یا بیس سال کر دیا جائے۔اس طرح اُس نے بہانہ بنایا کہ گویا ایک معقول وجہ بھی موجود ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابو سفیان کیا کوئی معاہدہ توڑ بیٹھا ہے ؟ وہ کہنے لگا مَعَاذَا اللهِ مَعَاذَ الله یہ کس طرح ہو سکتا ہے معاہدہ ہم نے خدا سے کیا ہے اُسے کوئی توڑ سکتا ہے۔ہم اپنے معاہدہ پر قائم ہیں ہم اُسے نہیں توڑ سکتے۔آپ نے فرمایا اگر تم معاہدہ توڑنے والے نہیں تو ہم بھی توڑنے والے نہیں کسی نئے معاہدہ کی کیا ضرورت ہے۔اب گھبر اگیا کیونکہ بات تو بنی نہیں تھی۔وہ کہنے لگا زیادہ مناسب یہی ہے