انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 235

انوار العلوم جلد 24 235 سیر روحانی (7) لیکن اُس نے رسول کی پرواہ نہ کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کی بے اعتنائی اور اُسکے انکار اور تکذیب کی وجہ سے ہم نے اس کو پکڑ لیا اور معمولی طور پر نہیں پکڑا بلکہ ایک غالب اور قادر کی حیثیت سے اُسکو پکڑا یعنی بعض گرفتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان بہانے بنا کر اُس سے نکل جاتا ہے مگر ہماری گرفت ایسی تھی کہ ایک تو اُس گرفت سے کوئی نکل نہیں سکتا تھا دوسرے سزا ایسی تھی کہ اُس سے وہ بچ نہیں سکتا تھا۔گور کمنٹیں بھی سزائیں دیتی ہیں لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ وہ پھانسی کی سزائیں دیتی ہیں تو لوگ جیل والوں سے مل جاتے ہیں ادھر رشتہ داروں کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتے ہیں اور وقت سے پہلے پہلے وہ زہر کھا کر مر جاتے ہیں اور گورنمنٹ کے ججوں نے جو پھانسی کا حکم دیا ہو تا ہے وہ یو نہی رہ جاتا ہے۔گزشتہ جنگ عظیم میں جو جر من لیڈر پکڑے گئے تھے اُن میں سے گو ئرنگ کے لئے امریکنوں نے بڑی تیاریاں کیں کہ اُس کو پھانسی پر لٹکائیں گے جس کا لوگوں پر بڑا اثر ہو گا کہ دیکھو گوئرنگ جیسے آدمیوں کو امریکنوں نے سزادی ہے اور جر من بڑے ذلیل ہوتے ہیں لیکن جس وقت پھانسی دینے کیلئے وہ اُس کے کمرہ میں گئے تو دیکھا کہ وہ مر ا پڑا تھا۔معلوم ہوا کہ کسی نہ کسی طرح جرمنوں نے اندر زہر پہنچا دیا اور وہ کھا کر مر گیا۔اب انہوں نے پکڑا تو سہی لیکن جو سزا دینے کا ارادہ تھا اس میں وہ کامیاب نہ ہوئے۔گویا اَخَذَ عَزِيزِ تو تھا مگر اَخَذَ عَزِيزِ مُقْتَدِرٍ نہیں تھا یعنی پکڑ تو لیا وہ نکلا نہیں مگر جو چاہتے تھے کہ سزا دیں اُس میں وہ کامیاب نہ ہوئے۔پھر بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مجرم ان کی سزا سے بھی پہلے نکل جاتا ہے جیسے کئی مجرم جیل خانوں سے بھاگ جاتے ہیں، کئی مقدموں سے پہلے بھاگ جاتے ہیں، کئی پولیس کی ہتھکڑیوں سے نکل جاتے ہیں، بعض دفعہ اطلاع ملنے سے پہلے ہی بھاگ جاتے ہیں اور پھر ساری عمر نہیں پکڑے جاتے۔بعض دفعہ پولیس اُن کے پیچھے تیس تیس سال تک ماری ماری پھرتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیوی حکومتوں میں تو یہ دو باتیں ہوا کرتی ہیں یعنی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مجرم بھاگ جاتا ہے لیکن ہم ایسا پکڑیں گے کہ وہ بھاگ نہیں سکے گا۔پھر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حکومت پکڑ تو لیتی ہے مگر جو سزا اس