انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 134

134 انوار العلوم جلد 24 بلکہ صرف اتنا ضروری ہے کہ اُن کو اردو پڑھنا اور اردو لکھنا اور قرآن شریف پڑھنا آجائے۔یہ دو باتیں جو ہیں ان کے لئے کسی خاص سکول کی ضرورت نہیں۔پرائیویٹ کلاسز بھی ایسی ہو سکتی ہیں۔اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر عورت اپنے دل میں یہ عہد کرلے کہ میں نے اپنے وطن میں جاکر ایک یا دو لڑکیوں کو ضرور پڑھا دینا ہے۔میرا اندازہ ہے کہ ہمارے اس وقت جلسہ گاہ میں جیسا کہ عام سالوں میں ہوتا ہے سات آٹھ ہزار یا نو ہزار عورت ہو گی تو سات آٹھ ہزار یا نو ہزار عورتوں سے دو تین ہزار ربوہ کی ہو گی پانچ چھ ہزار عورت باہر کی آئی ہوئی ہے اگر ان میں سے ہر عورت یہ عہد کر لیوے کہ میں واپس جا کر اور باقی ارد گرد جو احمدی ہیں اُن کی مستورات یا لڑکیاں کوئی ہوں دونوں کی تعلیم ضروری ہے اُن کو اردو لکھنا اور پڑھنا سکھا دوں گی تو اگر وہ دو دو کو پڑھنا سکھائیں تو میں سمجھتا ہوں تین چار سال میں ہم سارے ملک میں عورتوں کی تعلیم پیدا کر سکتے ہیں۔گورنمنٹ نے ووٹ کے لئے اب تو نہیں پتہ کیا شرط ہے مگر پہلے پری پارٹیشن (Prepartition) انگریزوں کے زمانہ میں تو یہ تھا کہ جو عورت اپنا نام لکھ لیوے اُس کو کہتے تھے تعلیم یافتہ ہے۔تو اگر ایک عورت اردو پڑھ سکتی ہو اور نام بھی لکھنا جانتی ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ پھر وہ دین سے بھی واقف ہو سکے گی اور سلسلہ کا اخبار بھی پڑھ سکے گی۔میں نے دیکھا ہے کہ جن لڑکیوں کو پڑھنا آتا ہے وہ تو چھوٹی چھوٹی تعلیم والی ایسی اخباروں کے پیچھے پڑتی ہیں کہ حیرت آتی ہے۔ہمارے گھر میں بعض لڑکیاں جو ملازمہ وغیرہ ہیں یا ملازمات کی لڑکیاں ہیں اُن سے ہمارے لئے اخبار چھپانا مشکل ہو جاتا ہے۔ادھر ”المصلح» آیا اور اُدھر غائب۔کیا ہوا کہ فلاں لڑکی اٹھا کر لے گئی ہے بس وہ بیٹھ کر پڑھتی رہتی ہیں اُن کو ایک عجوبہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے اور ہمیں پتہ لگ رہا ہے اور مائیں جو ہیں وہ اُن کے اوپر لٹو ہوئی چلی جاتی ہیں۔لڑکوں کی تعلیم پر جہال میں یہاں تک حالت ہے کہ سیالکوٹ کے ایک دوست مجھے ملنے کے لئے آئے۔پچھلے سال کی بات ہے کہنے لگے سیالکوٹ سے آیا ہوں۔میں نے کہا بہت اچھا۔پھر کہنے لگے آپ نے مجھے پہچانا نہیں ؟ میں نے کہا میں نے نہیں پہچانا۔کہنے لگے