انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 135

انوار العلوم جلد 24 135 متفرق امور میں عبد الکریم کا باپ ہوں۔اگر مولوی عبد الکریم کے باپ ہوتے تو بات بھی تھی میں سمجھ جاتا پر کسی عبد الکریم کا باپ مجھے کیا پتہ ہے۔کوئی سینکڑوں ہزاروں عبد الکریم کے باپ ہیں۔پھر چہرہ دیکھ کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھے نہیں پہچانا؟ میں نے کہا نہیں۔کہنے لگے میں عبد الکریم کا باپ ہوں جو ساتویں جماعت میں پڑھتا ہے خیر پھر تو پہچانا۔میں نے کہا اب تو میں نے ایسا پہچانا ہے کہ ساری عمر یاد رکھوں گا جس کے ساتویں جماعت پڑھنے والے باپ کی بھی ایسی شان ہو گی کہ اب اس کو ہر ایک کو پہچاننا چاہئے تو بھلا مجال ہے ہماری کہ ہم بھول جائیں۔تو لڑ کے بھی اگر ساتویں میں اتنی عزت دے دیتے ہیں تو سمجھو عور تیں ساتویں میں تو پھر کیا چار چاند لگا دیں گی۔جس وقت قاعدہ ہی پکڑ کر ماں کے سامنے بیٹھتی ہیں۔جو ماں نہیں پڑھی ہوئی تو وہ تو یہ سمجھتی ہے کہ میری بیٹی اتنی بڑی عالمہ فاضلہ ہو گئی ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا عالم بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔تو بہت تھوڑی سی کوشش کے ساتھ اس میں تغیر پیدا کیا جاسکتا ہے اور چونکہ اُن کے اندر نئی روح ہو گی، نئی تعلیم ہو گی اس لئے وہ خود بخود پیچھے پڑ کر کتابیں پڑھا کریں گی اور کتابیں پڑھ کے آپ ہی آپ اُن کے علم کی ترقی ہوتی چلی جائے گی۔تو میں دوسری تحریک اُن میں یہ کرتا ہوں کہ وہ تعلیم کو رائج کریں اور ہر ایک پڑھی ہوئی عورت یہاں سے یہ عہد کر کے جائے کہ میں اگلے سال کم سے کم دو عورتوں یا لڑکیوں کو پڑھا دونگی۔اور جو ہیں جماعت والے مردوہ یہ عہد کر کے جائیں کہ کسی نہ کسی تعلیم یافتہ عورت کو نیکی کی تحریک کر کے اس سکیم کو جاری کرنے کی کوشش کریں گے۔جماعت والے مثلاً قاعدے خرید دیویں یا اس قسم کی مدد دیویں جو غرباء کے لئے تعلیمی سہولت پیدا کرنے والی ہو۔اور پھر با قاعدہ سکول کی ضرورت نہیں صرف آدھا گھنٹہ اگر لڑکیاں اکٹھی ہو کر پڑھنا شروع کر دیں تو ایک سال میں وہ کہیں کی کہیں پہنچ جائیں گی۔ہاتھ سے کام کر کے زائد آمدنی پیدا کرو تیسری بات میں عورتوں کہنی چا ہتا ہوں (مردوں کو تو میں یہ کہونگا لیکن اپنے وقت پر) عورتوں سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اب وہ