انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 125

انوار العلوم جلد 24 125 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ متفرق امور (فرمودہ 27 دسمبر 1953ء بمقام جلسہ سالانہ ربوہ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- ”جیسا کہ میں دوستوں کو بتا چکا ہوں مجھے کئی مہینے سے گلے کی تکلیف چل رہی ہے اور آواز تدریجا بیٹھتی جارہی ہے لیکن کل سے کچھ ہلکا سا فرق نظر آتا ہے اللہ تعالیٰ نے یہی میرے دل میں ڈالا گو میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ مستقل فرق ہے یا عارضی بہر حال میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ تکلیف نزلہ کی وجہ سے ہے اگر نزلہ ناک کی طرف سے ہے تو شاید زور کم ہو جائے۔چنانچہ میں نے ایک سٹک پر کاسٹک لگا کر ناک میں دونوں طرف دور تک چھوا۔اِس سے کچھ نزلہ بہا تو ایک خفیف سا فرق پیدا ہوا اور گلے کی طرف جو تکلیف کا زور تھا اُس میں کمی ہو گئی۔آواز کے بھرانے میں تو فرق نہیں آیا لیکن ساتھ جو درد ہوتی تھی اُس میں کچھ فرق محسوس ہوا۔احباب کی خواہش کا احساس بہر حال یہ تقریب ہمارے لئے سال میں ایک دفعہ آتی ہے اور کئی دوست ایسے ہیں جو اسی تقریب پر یہاں آتے ہیں اور بعض تو چھ چھ سات سات سال کے بعد آتے ہیں۔ملاقات کے وقت کہتے ہیں کہ ہم تو سات سال کے بعد آئے، ہم چھ سال کے بعد آئے۔اسی طرح مستورات بھی آتی ہیں تو وہ چھ چھ سات سات سال کا عرصہ بتاتی ہیں۔تو جو لوگ چھ سات سال کے بعد آئیں اُن کو کچھ نہ کچھ سننے کا موقع نہ ملے تو یقیناً اُن کے