انوارالعلوم (جلد 24) — Page 126
126 انوار العلوم جلد 24 دلوں میں افسوس پیدا ہو گا اور اُن کے افسوس سے ہمیں بھی افسوس ہو گا۔اس لئے بہر حال میں نے ارادہ کیا کہ باوجود اس کے کہ مجھے تکلیف ہے میں تقریر کروں۔گو شش یہ ہو کہ مختصر تقریر ہو۔چنانچہ اس دفعہ میں نے نوٹ لئے ہیں مختصر لکھے ہیں لیکن بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ مختصر لکھے ہوئے نوٹ لمبے ہو جاتے ہیں اور لمبا لکھا ہوا مضمون چھوٹا ہو جاتا ہے۔اور میں نے خیال کیا کہ میرا تجربہ یہی ہے کہ بسا اوقات جب میں بولنے کے لئے کھڑا ہوں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے کوشش کروں تو خدائی نصرت میرے شامل حال ہو جاتی ہے اور وہ کام کامیابی سے ختم ہو جاتا ہے۔مجھے یاد ہے مولوی ابوالفضل محمود صاحب جب غیر احمدی تھے تو تین چار سال پہلے غیر احمدیت میں قادیان آیا کرتے تھے۔آدمی بے تکلف سے ہیں اور ایسی طرز کے ہیں کہ وہ بعض دفعہ ایسی باتیں بھی کر لیتے ہیں جن کو لوگ گستاخانہ سمجھتے ہیں۔اُس وقت وہ تھے ہی غیر احمدی۔اتفاق کی بات ہے کہ وہ جو احمدیت سے پہلے دو تین سال آئے تو ہر سال مجھے کچھ نزلہ کی شکایت اور کھانسی ہوتی تھی۔نزلہ کی شکایت تو چھپی ہوئی ہوتی ہے مگر جو ہوشیار آدمی ہے وہ تو پہچانتا ہے کہ میری آواز بھرائی ہوئی ہے۔عام آدمی کو خیال بھی نہیں آتا اور بھرائی ہوئی اور غیر بھرائی ہوئی میں وہ فرق بھی نہیں سمجھتا لیکن کھانسی ایسی تکلیف ہے جو سب کو پتہ لگ جاتی ہے۔تو شدید کھانسی مجھے اُن دنوں میں ہو جاتی تھی دو سال تو وہ آتے ہی رہے تیسرے سال ملاقات ہورہی تھی کہ اس میں مجھے کہنے لگے کیوں صاحب! یہ کوئی معجزہ ہے یا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ آپ کہتے ہیں کھانسی اور پھر تقریر ہو جاتی ہے۔میں نے کہا میں جھوٹ تو نہیں بولا کرتا۔اس کو معجزہ کہہ لو، خدا کا فضل کہہ لو جو تمہاری مرضی ہے کہہ لو۔خیر اس کے بعد وہ احمد کی ہو گئے۔واقع میں اس قدر شدید اُن دنوں مجھے کھانسی ہوتی تھی کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے بعد پھر جلسہ کے ایام میں اتنی کھانسی مجھے نہیں ہوئی۔برابر تین چار سال تک یہ تکلیف چلی۔ملاقات کرتا تھا تو کھانستا رہتا تھا، باتیں کرتا تھا تو کھانستا تھا، تقریر کرتا تھا تو شروع میں کھانسی آتی تھی اس کے بعد گلا ایسا گرم ہو جاتا تھا کہ اس میں کھانسی بند ہو جاتی تھی اور دیکھنے والا یہی