انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 100

انوار العلوم جلد 24 100 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب زراعت اور تجارت و صنعت میں تفرقہ پیدا کرنا ایک معمہ ہے جسے مولانا ہی حل کر سکتے ہیں۔صرف اس کے یہ معنے ہماری سمجھ میں آسکتے ہیں کہ دوسروں کے حصہ پر انہوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ہم مولانا کو قسم دیتے ہیں اس خدائے وحدہ لاشریک کی جس کے ہاتھ میں اُن کی جان ہے کہ اگر وہ اور اُن کے ساتھی ان الزاموں میں بچے ہیں تو وہ میدان میں آئیں اور اپنے ثبوت پیش کریں ورنہ کم سے کم لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کہتے ہوئے اعلان کریں کہ احمدیوں نے دوسرے فرقوں کی زمینوں، تجارتوں اور کار خانوں پر قبضہ کر لیا ہے اور ہم بھی اسی وحدہ لا شریک کی قسم کھا کر کہیں گے جس کے ہاتھ میں ہماری جان ہے کہ یہ الزامات بالکل جھوٹے ہیں اور اگر ہم ان میں جھوٹ بول رہے ہیں تو خدا کی لعنت ہم پر اور ہماری اولادوں پر ہو۔اس کے سوا ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔اگر اس کے باوجود کوئی شخص ان الزامات سے باز نہیں آتا تو ہم اس کا معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں اور اس سے دُعا کرتے ہیں کہ وہ حق اور انصاف کی تائید کرے اور جھوٹے اشتعال دلانے والوں اور غلط بیانیوں سے بد نام کرنے والوں کا خود ہی علاج ہو۔آخری خطاب مولانا مودودی صاحب نے ”قادیانی مسئلہ “ لکھ کر ملک میں خطرناک تفرقہ اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی ہے۔جہاں تک مولانا مودودی صاحب کے اپنے مفاد کا سوال ہے اس کے مطابق تو یہ کوشش بالکل جائز اور درست ہے کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں صاف لکھ چکے ہیں کہ صالح جماعت کا یہ فرض ہے کہ ہر ذریعہ سے حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے کیونکہ حکومت پر قبضہ کئے بغیر کوئی پروگرام ملک میں جاری نہیں ہو سکتا لیکن جہاں تک مسلمانوں کے مفاد اور امت مسلمہ کے مفاد کا سوال ہے یقینا یہ کوشش نہایت ناپسندیدہ اور خلاف عقل ہے۔مسلمان جن خطرناک حالات میں سے اس وقت گزر رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے اس وقت ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ متحد کرنے اور مسلمانوں کی سیاسی ضرورتوں کے متعلق زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔بغیر اتحاد کے اس وقت مسلمان سیاسی دُنیا میں سر نہیں اُٹھا سکتا۔اس وقت بیسیوں ایسے علاقے