انوارالعلوم (جلد 24) — Page 99
انوار العلوم جلد 24 99 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی تمام چیزیں جو آرڈی نینس سٹور سے دی گئی تھیں یعنی ہتھیار، بارود، خیمے ، سامان دیگر اور بستر وغیرہ وغیرہ سب کاسب 21۔K۔A بٹیلین یعنی فرقان سے واپس لے لیا گیا اور راولپنڈی سنٹرل ڈپو کو واپس کیا گیا۔اب سر ٹیفکیٹ دیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ کی کوئی چیز اب فرقان فورس سے قابل وصول نہیں۔دستخط D۔A۔D۔O۔S۔A۔K میجر 1950 Co-ord Dated 20 june“۔کیا مولانا اس رسید کو پڑھ کر لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کہہ کر جھوٹ بولنے والے کے لئے دُعا کریں گے؟ پھر مولوی عطاء اللہ صاحب بخاری نے 11 مئی 1952ء کو لائل پور میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ :- ”مرزائیوں کے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے بھارت کی سرحد پر ریاست بہاولپور میں اسی ہزار مربع زمین حاصل کر رکھی ہے اور اسی طرح سر محمد ظفر اللہ نے اسی ہزار ایکڑ زمین بہاولپور کی ہندوستانی سرحد پر حاصل کر رکھی ہے جس سے ان کے عزائم کا پتہ چلتا 150" حالا نکہ یہ سراسر جھوٹ اور افتراء ہے۔ایک فیصدی بھی اس میں سچ نہیں۔کیا اس قسم کے جھوٹ بول کر اسلام کی تائید کرنامہ نظر ہے؟ کیا اسلام بغیر جھوٹ کے ترقی نہیں کر سکتا۔مولانا مودودی اور ان کے ساتھی اگر سچے ہیں تو میدان میں آئیں اور اپنے الزامات ثابت کریں۔مولانا مودودی نے بھی اس کتاب میں یہ لکھا ہے کہ قادیانیوں کی جتھہ بندی سرکاری دفاتر کے علاوہ تجارت، صنعت اور زراعت میں بھی مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما ہے۔151