انوارالعلوم (جلد 24) — Page 64
انوار العلوم جلد 24 64 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب پھر مولانا فرماتے جماعت احمدیہ کے متعلق مخالفین کی کذب بیانیاں ہیں کہ قادیانیوں وجہ سے تو سرکاری دفاتر میں، تجارت میں، صنعت میں، زراعت میں غرض زندگی کے ہر میدان میں مسلمانوں کے ساتھ لڑائی ہو جاتی ہے۔مولانا ! یہ لڑائی کون کرتا ہے؟ یہ جھوٹ کب تک بولا جائے گا کہ سرکاری دفاتر پر احمدی قابض ہیں۔کسی ایک محکمہ کے اعدادو شمار تو پیش کیجئے کہ اس میں کل ملازم اتنے ہیں اور احمدی اتنے ہیں۔کب تک یہ جھوٹ بولا جائے گا کہ فوج میں پچاس فیصدی احمدی ہیں، اعداد و شمار کے ساتھ ہی لوگوں کو پتہ لگ سکتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے یا سچ اور پھر تجارت اور زراعت اور صنعت میں احمدی ہیں کتنے ؟ پچاس ہزار کے قریب پاکستان میں تاجر ہو گا مگر ان میں سے بمشکل ڈیڑھ دو سو احمدی ہو گا اور زراعت میں تو آدمی اپنے ماں باپ کا ورثہ لیتا ہے۔اس میں کسی احمدی نے کسی کا بگاڑ کیا لینا ہے۔کوئی احمدی اگر اپنے ماں باپ کی زمین لے لیتا ہے تو اس میں دوسرے مسلمانوں سے لڑائی کا کیا سوال ہے۔غیر احمدی بھی تو اپنے ماں باپ کا ورثہ لیتے ہیں۔صنعتی کار خانے شاید احمدیوں کے پاس ہزار میں سے ایک ہو گا۔پھر اس سے کیا اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔محض ایک غلط بات کو دہراتے جانے سے تو وہ سچی نہیں بن جاتی۔اعدادو شمار پیش کیجئے۔دنیا خود فیصلہ کرلے گی کہ حقیقت کیا ہے اور خدا گواہ ہے کہ آپ کبھی اپنے دعویٰ کی تائید میں اعداد و شمار پیش نہیں کر سکیں گے کیونکہ آپ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں اور قیامت تک اپنی بات کو ثابت نہیں کر سکیں گے خواہ فیصلہ کرنے والے آپ کے ہم مذہب بیج ہی کیوں نہ ہوں۔آپ کے ساتھیوں کا تو یہ حال ہے کہ ائر کموڈور جنجوعہ کے متعلق بھی انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہوائی جہازوں کے یہ افسر اعلیٰ احمدی ہیں۔127 حالانکہ جنجوعہ کبھی احمدیت کے قریب بھی نہیں گیا۔اس طرح جہاں کوئی شخص احمدیت کی تائید میں کچھ کہہ بیٹھتا ہے آپ لوگ فوراً کہہ دیتے ہیں کہ اصل میں یہ احمدی ، ہے۔حالانکہ احمدیت سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں ہو تا۔اس کا قصور صرف اتنا ہوتا ہے