انوارالعلوم (جلد 24) — Page 552
انوار العلوم جلد 24 552 سال 1954ء کے اہم واقعات ہے اس سے خون بہا جسے کھا کر اسے مزہ آیا۔پھر اس نے اور چائی۔اس نے سمجھا شاید میں سل کھا رہا ہوں حالانکہ اصل میں وہ اپنی زبان ہی کھا رہا تھا۔ہوتے ہوتے اُس کی ساری زبان کھس گئی۔اسی طرح تم بھی گویا اپنی زبان کھا رہے ہو لیکن فرق یہ ہے کہ چیتے نے تو زبان کھائی تھی اپنے مزہ کے لئے اور تم زبان کھا رہے ہو خدا کے لئے۔اُس کو تو اُس کی زبان کا بدلہ نہیں ملتا مگر تم جس کے لئے زبان گھسا رہے ہو وہ زبان پیدا کرنے ملتا والا ہے بلکہ سارا وجو د ہی پیدا کرنے والا ہے۔اس لئے تمہارے لئے یہ خطرہ نہیں ہو سکتا کہ تمہاری زبان گھس جائے تو پھر کیا ہو گا۔اس لئے کہ پھر دوسری زبان تم کو مل جائے گی پھر تیسری زبان مل جائے گی پھر چوتھی زبان مل جائے گی۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں اور بعض دفعہ تو کہہ بھی دیتے ہیں کہ یہ بوجھ زیادہ بڑھایا جا رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ خلیفہ خدا بناتا ہے تو میں اس بات کا بھی قائل ہوں کہ خلیفہ کوئی بات ایسی نہیں کر سکتا جس کو کہ بعد میں پورا نہ کیا جاسکے۔کوئی اس کو مبالغہ کہہ لے، کوئی اس کو خود پسندی کہہ لے، کوئی کچھ کہہ لے مگر میرا یہ یقین ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ لازمی نتیجہ ہے اس بات کا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے کہ جو بھی خلیفہ کام شروع کرے گا وہ اسلام کی ترقی کے لئے ضروری ہو گا اور جب وہ ضروری ہو گا تو جماعت کے اندر ضرور اُس کی طاقت ہو گی۔وہ اپنی غفلت سے اُس کو پورا کر سکے یانہ کر سکے یہ اور بات ہے لیکن جہاں تک امکان کا تعلق ہے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ نا ممکن تھا اس جماعت کے لئے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تبلیغ ایسے رنگ میں آچکی ہے اور مشن ایسی طرز پر قائم ہو چکے ہیں کہ شاید چند مشن اور قائم ہونے کے بعد ہم ساری دنیا میں شور مچا سکیں۔اگر اس وقت صرف چھ سات مشن اور دنیا میں قائم ہو جائیں تو ایک وقت میں ساری دنیا میں آواز بلند ہو سکتی ہے اور ایسی طرز پر آواز اٹھ سکتی ہے کہ لوگوں کو اسلام کی طرف لازماً توجہ کرنی پڑے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان موجودہ مشنوں کو قائم رکھا جائے اور چھ سات مشن اور قائم کر دیئے