انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 550

انوار العلوم جلد 24 550 سال 1954ء کے اہم واقعات تھے کہ کسی شخص کو کہو کہ تو جاکر حملہ کرتا کہ عمر کے ساتھ مشابہت پوری ہو جائے۔یہ کام صرف دشمن کے ہاتھ سے ہو سکتا تھا۔چنانچہ جو واقعات ہوئے اُن کو دیکھ کر سمجھ ہی نہیں آتا کہ ہمارے آدمیوں کو اُس وقت ہو کیا گیا تھا۔مثلاً وہ آتا ہے تو ہمارے آدمی اُس کو پناہ بھی دیتے ہیں۔اُس کو بٹھاتے بھی ہیں۔اُس کی خاطریں بھی کرتے ہیں اور کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ ہم تحقیق تو کریں یہ ہے کون۔قادیان میں یہ قاعدہ تھا کہ اجنبی آدمی کو نماز کے وقت پہلی دو صفوں میں نہیں بیٹھنے دیتے تھے اور جماعت کے مختلف محلوں کے دوست ہر روز آکے پہرہ دیتے تھے۔یہاں آکر ان کو بڑا اطمینان ہو گیا کہ اب کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔اور پھر وہ شخص اپنے اقرار کے مطابق آکے پہلی صف میں بیٹھا اور کسی نے نہیں پوچھا کہ میاں تم اجنبی آدمی ہو تم پہلی سطر میں کیوں بیٹھے ہو۔بلکہ عجیب بات تو یہ ہے کہ مجھ سے عدالت نے پوچھا کہ کیا آپ نے اس لڑکے کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا میں نے تو نہیں دیکھا تھا۔بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا منشاء تھا کہ وہ نظروں پر پردہ ڈال دے ورنہ عموما انسان کی نظر اٹھ جاتی ہے اور وہ دیکھ لیتا ہے۔مگر میں نے یہی کہا کہ میں نے تو دیکھا نہیں۔یہ مانتا ہے اور دوسرے لوگ کہتے ہیں ورنہ میں نے اس کو نہیں دیکھا۔تو یہ ساری چیزیں ایسی تھیں جو ہمارے اختیار کی نہیں تھیں۔یہ کسی غیر کی تدبیر کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں۔اور یا پھر خدائی تدبیر تھی۔بہر حال ان ساری تدبیروں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ سے میری مشابہت اس وقت ثابت کر دی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک پیشگوئی بھی پوری ہو گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرے متعلق فرمایا تھا کہ میں نے دیکھا محمود آیا ہے اور اس کے تمام کپڑوں پر ، گرتے پر اور صدری وغیرہ پر اور پاجامے پر خون پڑا ہوا ہے۔یہ خواب کتنے عرصہ کی ہے۔میں چھوٹا تھا اور میری گیارہ بارہ سال کی عمر تھی جب انہوں نے یہ خواب دیکھی۔اور میری پینسٹھ سال کی عمر میں آکے یہ خواب پوری ہوئی۔یہ کتنا بڑا بھاری نشان ہے۔پھر انہی دنوں میں، میں نے رویا میں دیکھا کہ میں انکوائری کمیشن کی جگہ پر ہوں۔