انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 549

انوار العلوم جلد 24 549 سال 1954ء کے اہم واقعات تھا یہ تو تمہارے ہاتھ کا ایک فعل تھا۔بے شک قرآن کریم یہی کہتا ہے کہ میں خلیفہ بناتا ہوں مگر بنواتا تو آدمیوں کے ہاتھ سے ہے۔اور جو چیز آدمیوں کے ہاتھ سے بنوائی جاتی ہے وہ کوئی دلیل لوگوں کے سامنے نہیں ہوتی۔تم یہ کہتے کہ دیکھو !حضرت صاحب نے کہا تھا ” فضل عمر “ اور یہ دوسرے خلیفہ بن گئے۔تو بڑی کھینچ تان کے بعد دلیلیں نکالنی پڑتیں کہ اب تک زندہ رہنے کی کونسی صورت تھی اور کون اس پر یقین رکھ سکتا تھا۔یہ ذرا پیچیدہ باتیں ہیں۔دشمن کا سیدھا جواب یہ تھا کہ تم نے ان کو دوسرا خلیفہ بنادیا اب لگے ہو الہام چسپاں کرنے۔تم نے آپ خلیفہ بنایا ہے۔لیکن یہ چیز خدا تعالیٰ نے ایسی پیدا کی جو تمہارے ہاتھوں سے نہیں ہوئی تمہارے مخالف کے ہاتھوں سے ہوئی۔(1) جس دن مجھ پر حملہ کیا گیا اسی دن حضرت عمر پر حملہ کیا گیا تھا یعنی بدھ کے دن (2) جس طرح ایک غیر عقیدہ شخص نے حضرت عمر پر حملہ کیا تھا اسی طرح ایک غیر عقیدہ شخص نے مجھ پر حملہ کیا۔(3) جس طرح مسجد میں حضرت عمر پر حملہ کیا گیا تھا اسی طرح مسجد میں مجھ پر حملہ کیا گیا۔(4) جس طرح نماز کے وقت حضرت عمر پر حملہ کیا گیا تھا اسی طرح نماز کے وقت مجھ پر حملہ کیا گیا۔(5) جس طرح پیچھے سے آکر دشمن نے حضرت عمر پر حملہ کیا تھا اسی طرح پیچھے سے آکر مجھ پر حملہ کیا گیا۔فرق صرف اتنا ہے کہ اُن پر صبح کے وقت حملہ ہوا اور مجھ پر عصر کے وقت حملہ ہوا۔لیکن جو قرآن شریف کی تفسیریں پڑھنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ قرآن شریف میں جو صَلوةُ الوُسطیٰ کا لفظ آتا ہے اس کے متعلق مفسرین نے یہی لکھا ہے کہ اس سے یا عصر کی نماز مراد ہے یا صبح کی۔گویا صبح اور عصر کو وہ ایک نام میں شریک قرار دیتے ہیں۔پس وہ ساری مشابہتیں جو حضرت عمرؓ کے حملہ کے ساتھ تھیں وہ ساری کی ساری اللہ تعالیٰ نے اس جگہ ملا دیں۔اور پھر ”فضل عمر “ کہہ کر یہ بھی بتا دیا کہ ہم اس کے ساتھ حضرت عمر سے بڑھ کر معاملہ کریں گے۔یعنی حضرت عمرؓ اس حملہ کے نتیجہ میں شہید ہو گئے تھے لیکن یہ پیدا ہونے والا لڑکا اس حملہ کے باوجو د بیچ جائے گا اور زندہ رہے گا۔اب دیکھو یہ تو ہمارے اور تمہارے اختیار کی بات نہیں تھی۔تم یہ نہیں کر سکتے