انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 548

انوار العلوم جلد 24 548 سال 1954ء کے اہم واقعات فصدیں نہیں نکلوانی ہم اس طرح ہی فاصد خون نکال دیتے ہیں۔مگر میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ جو بھی واقعہ ہوا حملہ کرنے والے کی نیت بہر حال مجھے مارنے کی تھی۔خود عدالت میں اس نے اقرار کیا ہے کہ میں اسی نیت سے آیا تھا کہ ان کو ماروں۔مگر یہ سیدھی بات ہے کہ جس نے بھی مجھے مارنا چاہا تھا اس نے مجھے نہیں مار نا چاہا تھا بلکہ اپنے خیال میں احمدیت کو مارنا چاہا تھا اور یہ چیز ایسی ہے جس کے متعلق میرا مذہبی فرض ہے کہ میں دنیا کو بتادوں کہ احمدیت کا میری زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے تو دنیا نے یہ سمجھا تھا کہ احمدیت ختم ہو گئی مگر پھر احمدیت اس سے بھی آگے نکل گئی۔حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے تو انہوں نے سمجھا بس یہ بڑھا ان میں ایک عقلمند تھا اب یہ ختم ہیں۔پھر جب میں خلیفہ ہوا تو لو گوں نے کہا ایک بچے کے ہاتھ میں خلافت آگئی ہے۔مگر وہ بچہ آج بوڑھا ہے اور احمدیت آج جوانی کی طرف جارہی ہے۔نہ اس کے بچپن نے احمدیت کو نقصان پہنچایا اور نہ اس کا بڑھاپا احمدیت کو کوئی نقصان پہنچائے گا۔دنیا کتنی بھی کوشش کر لے احمدیت کا پودا بڑھے گا، بڑھتا جائے گا ، ترقی کرتا جائے گا۔آسمان تک جا پہنچے گا یہاں تک کہ زمین اور آسمان کو پھر اسی طرح ملا دے گا جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا تھا۔دیکھو ہمارے ہاں فارسی کی ایک ضرب المثل مشہور ہے کہ خد اشرے برانگیزد که خیر مادر آن باشد یعنی خداتعالی بعض دفعہ کوئی شر پیدا کرتا ہے لیکن اس میں ہمارے لئے خیر مقصود ہوتی ہے۔اب دیکھو یہ واقعہ گذرا تو ظاہر میں اُس وقت ہم گھبر ائے۔بیمار تو تکلیف پاتا ہی ہے اس کو آخر دکھ پہنچتا ہے باقی جماعت کو بھی ایک صدمہ پہنچا۔لیکن یہ کتنا بڑا نشان ہے کہ جس وقت میں خلیفہ ہوا اور لوگوں نے حضرت صاحب کے الہام ٹٹولے تو ان میں سے ایک الہام ” فضل عمر “ بھی انہوں نے پیش کرنا شروع کیا کہ دیکھو! یہ دوسرے خلیفہ ہوئے ہیں اور ان کے لئے الہام ہے ” فضل عمر “۔پیغامیوں نے اس پر خوب ہنسی اڑائی کہ لوجی یہ ” فضل عمر “ بن گئے ہیں۔اب یہ جو تمہارا خلیفہ بننے کا سوال وو دو