انوارالعلوم (جلد 24) — Page 539
انوار العلوم جلد 24 539 سال 1954ء کے اہم واقعات میں نے عورتوں کے حصہ کی مسجد کے متعلق ابھی توجہ دلائی تھی کہ اس مسجد کے لئے اب تک رقم جمع نہیں ہوئی لیکن مردوں کے ذمہ جو مسجد لگائی گئی ہے یا بہت سی مساجد لگائی گئی ہیں ان کی حالت اس سے بھی بدتر ہے۔عورتوں کی مسجد کے لئے زمین خریدی جا چکی ہے اور اس پر جو مسجد بنی ہے اس کی بھی قریباً ایک تہائی رقم جمع ہے لیکن مرد بیچارے ایسے کم ہمت ثابت ہوئے ہیں کہ ان کی طرف سے ابھی زمین کی قیمت بھی ادا نہیں ہوئی حالانکہ میں نے اس کے لئے نہایت آسان راہیں بتائی تھیں لیکن تعجب ہے کہ ان پر عمل نہیں ہوا۔ان آسان راہوں کے متعلق ہمارا یہ اندازہ تھا کہ اتنی ہزار سے ایک لاکھ روپیہ تک سالانہ جمع ہو سکتا ہے لیکن مجھے رپورٹ یہ کی گئی ہے کہ کل چودہ ہزار روپیہ سال میں چندہ آیا ہے۔میں نے بتایا تھا کہ جس کی مثلاً شادی ہو وہ اس خوشی میں کچھ نہ کچھ رقم مسجد فنڈ میں بھی دے دیا کرے۔ہماری جماعت دو تین لاکھ کی ہے اور ہزار دو ہزار کی شادی ہوتی رہتی ہے پس وہ جو سو، دو سو، پانچ سو، ہزار، دو ہزار، پانچ ہزار روپیہ شادی پر خرچ کرتا ہے اگر پانچ دس ہیں پچاس روپیہ تک مساجد کے لئے بھی اس وقت دے دے تو کونسی بات ہے۔فرض کرو اگر ہزار شادی ہو اور پانچ روپیہ اوسط لگالو کسی نے ایک روپیہ دیا کسی نے دو دیئے کسی نے ہیں یا پچاس بھی دیئے لیکن اوسط پانچ روپے رکھو تو پانچ ہز ار تو شادیوں کا آجاتا ہے۔اسی طرح میں نے کہا تھا کہ جب بچے پیدا ہوتے ہیں تو تم تھوڑا بہت تو خرچ کرتے ہو۔اگر مسجد کے لئے کچھ دے دیا کرو تو یہ بھی خدا تعالیٰ کے حضور تمہاری اولاد کے لئے برکت کا موجب ہو جائے گا۔فرض کرو اگر ہمارے ہاں سال میں دو ہزار یا تین ہزار بچہ پیدا ہوتا ہے اور دو روپے اوسط آتی ہے تو پانچ ہزار یہ بھی ہو جاتا ہے گویا دس ہزار تو صرف شادیوں اور بچوں سے ہو جاتا ہے۔پھر میں نے یہ کہا تھا کہ جس کسی شخص کی ترقی ہو وہ پہلے مہینہ کی ترقی دے دیا کرے۔ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے دو تین ہزار ملازم ہیں اور ان کی اوسط تنخواہ میرے نزدیک تین چار سو روپیہ ہوتی ہے اور ہر سال انہیں ترقی ملتی ہے