انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 503

انوار العلوم جلد 24 503 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1954ء میں ندامت اور حسرت نہ آئے۔پھر اس کے علاوہ وہ لوگ جو کہ باہر سے آئے ہیں ان کے لئے بھی جو تمہارے ساتھ آئے ہیں، ان کے لئے بھی جو تمہارے میزبان ہیں، ان کے لئے بھی جو آنا چاہتے تھے لیکن نہیں آسکے ، ان کے لئے بھی جو اپنی کمزوری کی وجہ سے آنے کی خواہش بھی نہیں رکھتے تھے دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کے بھی دل صاف کرے۔باہر سے بہت سے لوگوں کی دعاؤں کی تاریں آئی تھیں۔میں نے دفتر کو کہا تھا کہ مجھے اس وقت دے دینا لیکن انہوں نے نکلتے وقت صرف میرے سامنے کاغذ کر کے پھر اپنی جیب میں ڈال لیا۔بہر حال ان میں زیادہ تر باہر کی جماعتوں کی تاریں ہیں۔انڈونیشیا کی جماعت کی تارہے، جرمنی کی جماعت کی تارہے، امریکہ کی طرف سے تار ہے، شام کی طرف سے تار ہے ، اسی طرح گولڈ کوسٹ کی طرف سے تار ہے۔غرض مختلف ممالک سے احباب کی تاریں آئی ہیں کہ جب افتتاح کے موقع پر دعا کی جائے تو ہمارے لئے بھی دعا کریں۔بعض ایسے لوگوں کی بھی تاریں آئی ہیں جو جلسہ پر نہیں آسکے اور انہوں نے خواہش کی ہے کہ ہمارے لئے جلسہ کے موقع پر دعا کے لئے کہا جائے۔یہ اتنا وقت تو ہے ہی نہیں کہ ان امور کو تفصیل سے بتایا جائے بلکہ میں دو چار منٹ اپنے وقت سے اوپر لے چکا ہوں۔بہر حال ان کے لئے دوست دعا کریں۔ایسے موقع پر تفصیلی دعا تو ہو نہیں سکتی اجمالی دعا ہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سارے دوستوں پر اپنا فضل نازل فرمائے اور جو نہیں آسکے ان کو بھی آئندہ آنے کی توفیق دے۔اور اپنی دعاؤں میں اس بات کو بھی یاد رکھو کہ یہ وقت اسلام کے لئے نہایت نازک ہے اور مختلف اسلامی ممالک اس وقت خطرہ میں ہیں۔انڈونیشیا ہے، خود پاکستان بھی ہے، شام ہے ، مصر ہے، ایران ہے۔یہ ممالک اس وقت ایک خطرہ کے دور میں سے گزر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان کی حفاظت کرے۔چار پانچ سو سال کی غلامی کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آزادی کا سانس لینے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔خدا کرے کہ یہ آزادی ان کے لئے اور دین اسلام کے لئے مبارک ہو اور ان کی مشکلات دور ہوں اور وہ پھر دنیا میں اس عزت کے مقام کو حاصل کریں جس عزت کے مقام کو کسی زمانہ میں انہوں نے حاصل کیا تھا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔