انوارالعلوم (جلد 24) — Page 481
انوار العلوم جلد 24 481 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب تمہیں کہتا ہے تم نماز پڑھو تو یہ تمہارے مارل کوڈ کے خلاف نہیں اور اس کا نماز پڑھنے کی تلقین کرنا ریلیجس انٹرفیرنس (Religious interference) نہیں۔تم نماز پڑھو چاہے کسی طرح پڑھو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔تم اپنے میں سے کسی کو امام بنالو۔کالج کے بعض پروفیسر غیر احمدی ہیں تم ان میں سے کسی کو امام بنالو لیکن نماز ضرور پڑھو۔شیعہ اور بوہرہ لوگ نماز پڑھتے ہوئے ہاتھ چھوڑتے ہیں باندھتے نہیں۔ہم اہل حدیث کی طرح سینہ پر ہاتھ باندھتے ہیں۔حنفی لوگ ناف کے نیچے ہاتھ باندھتے ہیں اس کے خلاف اگر کوئی پروفیسر تمہیں مجبور کرتا ہے تو تم اس کی بات ماننے سے انکار کر دو۔اگر وہ کہتا ہے کہ تم آمین بالجہر کہو تو یہ اہلحدیث کا مذہب ہے حنفیوں کا نہیں۔اگر تم حنفی ہو تو تم اس کی بات نہ مانو اور میرے پاس شکایت کرو میں اس کے خلاف ایکشن لوں گا۔مذہب میں دخل اندازی کا کسی کو حق نہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ مذہب میں مداخلت کرنا انسان کو منافق بناتا ہے مسلمان نہیں بناتا۔لیکن تم میں سے ہر ایک کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ تعلیم الاسلام کالج کا طالب علم ہونے کی وجہ سے اسلام کی تعلیم پر چلے۔اب اسلام کی تم کوئی تعریف کرو اسلام کی جو تعریف ہمارے باپ دادوں نے کی ہے تم اُسی کو مانو لیکن اگر تم اس تعلیم پر جسے تم خود درست سمجھتے ہو عمل نہیں کرتے تو یہ منافقت ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کالج میں اگر کوئی ہندو بھی داخل ہونا چاہے تو ہمارے کالج کے دروازے اس کے لئے کھلے ہیں لیکن وہ بھی اس بات کا پابند ہو گا کہ اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کرے کیونکہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل کرے۔مسلمان اپنے مذہب کے مطابق عمل کرے، ہندو اپنے مذہب پر عمل کرے، عیسائی عیسائیت پر عمل کرے اور یہودی یہودیت پر عمل کرے۔پس اس اسلامی حکم کی وجہ سے ہم اسے مجبور کریں گے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کرے۔لیکن یہ کہ تم ایس کالج میں تعلیم حاصل کرو لیکن کسی مارل کوڈ کے ماتحت نہ چلو تو یہ درست نہیں ہو گا۔تمہیں اس کالج میں داخل ہونے کے بعد اپنے آپ کو کسی نہ کسی مارل کوڈ کی طرف منسوب کرنا ہو گا اور پھر تمہارا فرض ہو گا کہ تم اس کے ماتحت چلو۔